Al-Risala · January 2018 · page 30

نزاع کا طریقہ نہیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰

قابل ہو جاتا ہے کہ مبنی بر حقیقت سوچے، مبنی بر حقیقت رائے قائم کرے، مبنی بر حقیقت منصوبہ بنائے ۔ یہ صفت کسی آدمی کو حکیم (man of wisdom) بناتی ہے، اور جو آدمی اس معنی میں حکیم (wise) ہو، وہی وہ انسان ہے جس کو سوپر مین (superman) کہا جاتا ہے۔

نزاع کا طریقہ نہیں

پیغمبر اسلام کو قرآن میں اپنے مشن کے سلسلے میں جو طریقہ بتایا گیا وہ یہ تھا کہ کسی بھی حال میں نزاع کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ یک طرفہ دانش مندی کے ذریعہ غیر نزاعی طریقہ اختیار کرو۔ اس سلسلے میں قرآن کی ہدایت ان لفظوں میں دی گئی ہے: لِکُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً ہُمْ نَاسِکُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْأَمْرِ وَادْعُ إِلَى رَبِّکَ إِنَّکَ لَعَلَى هُدًى مُسْتَقِيمٍ (22:67) یعنی اور ہم نے ہر امت کے لئے ایک طریقہ مقرر کیا کہ وہ اس کی پیروی کرتے تھے۔ پس وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاؤ۔ یقیناً تم سیدھے راستہ پر ہو۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی اپنی کنڈیشننگ (conditioning) کی بنا پر الگ الگ طریقہ اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ تم ان کی کنڈیشننگ کو توڑو۔ اس طرح لوگ اپنی حالت فطری پر قائم ہو جائیں گے، اور یہ ممکن ہو جائے گا کہ اختلاف کے بجائے اتفاق کی بنیاد پر ان سے معاملہ کیا جائے۔

انجام دیکھ کر عمل کرنا

پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: بارك الله للمسلمين فيك، فخصني منك بخاصة خير، قال : مستوص أنت؟ أراه قال : ثلاثا، قال : نعم، قال: اجلس، إذا أردت أمر افتدبر عاقبته، فإن كان خيرا فأمضه، وإن كان شرا فانته (الزهد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 41)۔ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: آپ کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کو برکت دے۔ آپ مجھ کو اپنی طرف سے کسی خاص خیر کی نصیحت کیجیے۔ آپ نے کہا:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page