ابتدائی منصوبہ پر نظر ثانی
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۱
کیا تم نصیحت چاہتے ہو، آپ نے یہ بات غالباً تین بار کہی، آدمی نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: بیٹھ جاؤ، جب تم کوئی کام کرنا چاہو، تو تم اس کے نتیجہ پر غور کرو، اگر اس میں خیر ہو تو اس کو کرو، اور اگر وہ برا ہے تو اس سے رک جاؤ۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام کرو، خوب سوچ سمجھ کر کرو۔ پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرو۔ بے لاگ انداز میں غور کر کے یہ سمجھو کہ وہ کام تمھارے لیے باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ صرف جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرو، بلکہ اپنے اقدام کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنے کے بعد اس کی طرف آگے بڑھو۔ تمھارا ہر کام گہری سوچ کا نتیجہ ہو، نہ کہ محض جذبات کا نتیجہ۔ کام کرنے کے اس طریقے کو منصوبہ بند کام کہا جاتا ہے۔ منصوبہ بند کام کا اصول یہ ہے کہ پہلے سوچنا، اور پھر کرنا۔ جو آدمی کرنے کے بعد سوچے، وہ ایک غیر دانش مند آدمی ہے۔ اور جو آدمی کرنے سے پہلے سوچے، وہ ایک دانش مند آدمی۔
یہی درست اقدام کا دانش مندانہ اصول ہے۔ آدمی اگر ذاتی زندگی گزار رہا ہو تو اس کو زیادہ مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ لیکن جب آدمی کوئی عملی اقدام کرے تو اس کو بہت سے خارجی مسائل پیش آتے ہیں۔ ان خارجی مسائل کا پیشگی اندازہ کرنا، بہت ضروری ہے۔ جو آدمی خارجی مسائل کا پیشگی اندازہ کیے بغیر عملی اقدام کرے، وہ اپنے اقدام سے کچھ پائے گا نہیں۔ بلکہ اپنے نقصان میں صرف اضافہ کرنے کا سبب بنے گا۔
ابتدائی منصوبہ پر نظر ثانی
موجودہ دنیا میں کوئی آدمی پیشگی طور پر بالکل درست منصوبہ نہیں بنا سکتا۔ جب آدمی کسی عمل کو شروع کرتا ہے تو بعد کو ایسے حالات پیش آتے ہیں، جو تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپنے عمل کی ری پلاننگ کی جائے۔ پیغمبر اسلام کے حکیمانہ طریقے کا ایک جز یہ بھی تھا۔ آپ ہمیشہ اس کے لیے تیار رہتے تھے کہ اگر ابتدائی منصوبہ میں کوئی کمی نظر آئے تو دوبارہ زیادہ قابل عمل انداز میں نیا منصوبہ بنایا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues