تجربہ سے سبق لینا
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۲
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے مکہ میں 610 عیسوی میں اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت کے مکہ میں آپ کے مشن کے لیے موافق ماحول موجود نہ تھا۔ چناں چہ وہاں کے لوگوں کی اکثریت آپ کے خلاف ہوگئی۔ آپ کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالنے لگے۔ اس وقت آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو مدینہ بھیجا۔ تاکہ وہ اندازہ کریں کہ کیا مدینہ کے حالات مکہ کے مقابلے میں آپ کے لیے زیادہ موافق ہیں۔ یہ دونوں صاحبان مدینہ جا کر لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ اس لیے ان کو مقری کہا جاتا تھا۔ مدینہ کے لوگ برعکس طور پر کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام قبول کرنے لگے۔ بیعت عقبہ اولی اور بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ اسی زمانے میں پیش آیا۔ مدینہ کے بارے میں اس مثبت تجربے کے بعد نبوت کے تیرھویں سال آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں، اور از سر نو اپنے مشن کا آغاز کریں۔ اسی کا نام ری پلاننگ (replanning) ہے، اور ری پلاننگ پیغمبر اسلام کے طریقہ کار کا ایک اہم جزء ہے۔ پیغمبر اسلام کا یہ طریقہ نہ تھا کہ اپنے عمل کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے بدستور اپنے عمل کو جاری رکھیں، اور جو لوگ بے نتیجہ کام میں مارے جائیں، ان کو شہید کا لقب دے کر اس بے نتیجہ کام کو گلوریفائی (glorify) کریں۔ پیغمبر اسلام کی ایک سنت ری پلاننگ ہے۔ پہلا منصوبہ اگر بے نتیجہ ثابت ہو تو اس کے بعد بھی اس منصوبے کو بدستور جاری رکھنا، وہ مکمل طور پر پیغمبر اسلام کی پالیسی کے خلاف تھا۔
تجربہ سے سبق لینا
رسول اللہ کی مکی زندگی کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں اس طرح آتا ہے: عن طلحہ بن عبيد الله، قال: مررت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في نخل، فرأى قوما يلقحون النخل، فقال: ما يصنع هؤلاء؟ قالوا: يأخذون من الذكر فيجعلونه في الأنثى، قال: ما أظن ذلك یغنی شيئا، فبلغهم، فتركوه، فنزلوا عنها، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إنما هو الظن، إن كان یغنی شيئا فاصنعوه، فإنما أنا بشر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues