Al-Risala · July 2018 · page 12

دورِ شخصیت ، دورِ استدلال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۱۲

دورِ شخصیت ، دورِ استدلال

قدیم زمانہ شخصیت کی عظمت (personality cult) کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ عقلی استدلال کا زمانہ(age of reason) ہے۔ قدیم زمانے میں ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص جس کو کسی وجہ سے بڑا مان لیا جائے_ لوگ اس کی باتوں کو اعتقادی طور پر درست سمجھتے تھے، اور عقل کے استعمال کے بغیر اس کی پیروی کرتے تھے۔ اب یہ دور ختم ہو گیا۔ موجودہ زمانے میں اس طرح کی شخصیتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ شخصی صلاحیت کے اعتبار سے تو اب بھی لوگ پیدا ہو رہے ہیں، لیکن زمانے کے زیرِ اثر اب کسی شخص کو اکابر کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔

سائنسی انقلاب کے بعد دنیا میں عقلیت کا دور(age of reason) آیا ہے۔ عقلیت کا مطلب عقل پرستی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہے عقلی استدلال کی بنیاد پر کسی بات کو ماننا، اور کسی بات کو نہ ماننا۔ آج وہی تحریک کامیاب تحریک ہے جو آج کے فکری مستوىٰ اور آج کے مسلمہ استدلال کی سطح پر اپنے نظریے کی تبلیغ کرے۔ اس کے برعکس جو تحریک اکابر اور شیوخ کے حوالے کی بنیاد پر شروع کی جائے، وہ تحریک آج کے معیار کے مطابق سرے سے تحریک ہی نہیں۔ قدیم زمانے میں شخصیت پرستی کی بنا پر عقلی غور وفکر کا ارتقا (development) نہیں ہوا۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک یہ صورت حال باقی رہی۔ اسلام نے پہلی بار عقلی غور وفکر کا آغاز کیا۔ قرآن میں بار بار اس قسم کے الفاظ آئے ہیں ـــــ تدبر، تعقل، تفکر، توسم، تذکر، وغیرہ_ حتی کہ خود قرآن کے بارے میں کہا گیا ہے : كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔

لیکن بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر عملًا عقلی غور وفکر کا خاتمہ ہو گیا۔ دین میں عقلی غور وفکر کو برا سمجھا جانے لگا۔ حدیث میں عمومی معنوں میں آیا تھا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ (ابن ماجہ، حدیث نمبر 224)۔ لیکن بعد کے زمانے میں طلبِ علم سے مراد صرف علم دین کی طلب قرار پایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page