Al-Risala · July 2018 · page 34

تائید عام

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۴

اس وقت جب کہ مسلمان خود اپنی کسی غلطی کی بنا پر لوگوں کو غیر ضروری طور پر اپنا مخالف بنالیں ۔ وہ ’’ ’’آبیل مجھے مار‘ کی پالیسی اختیار کر کے دوسروں کے اندر ایسا ردعمل (reaction) پیدا کریں کہ جو ان کے لیے عملاً موافق اقوام بنے ہوئے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر ان کے مخالف بن جائیں ۔ تاریخ کے فائنل رول کا زمانہ اللہ رب العالمین کائنات کا خالق ہے۔ اس نے ایک منصوبے کے تحت انسان کو پیدا کیا۔ اس منصوبے کے تحت رب العالمین نے انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ کامل آزادی کے ساتھ زمین (planet earth) پر آباد ہو، اور کامل آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری کرے۔ لیکن اسی کے ساتھ خالق انسانی تاریخ کو پہنچ کرتا رہا۔ مینجمنٹ کے اسی واقعے کو قرآن میں تدبیر امر (السجدة، 32:5) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ رب العالمین کا نقشہ یہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو اس طرح بیج کیا جائے کہ فطرت کے تمام امکانات دریافت ہو کر سامنے آجائیں۔ خالق نے یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا کہ انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) باقی رہے، اور ترقی کا عمل بھی پوری طرح جاری رہے، اور اس پر اس کے نتیجے میں فطرت میں چھپی ہوئی ٹکنالوجی دریافت ہو، جو آخر کار ایک مکمل تہذیب (civilization) کی صورت اختیار کرلے۔ پھر انسانی تاریخ مختلف حالات سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے کہ دنیا میں کمیونی کیشن کا دور آئے، امن کا دور آئے، صنعتی تہذیب کا دور آئے، بڑے پیمانے پر انسان کی نقل وحرکت (mobility) کا دور آئے، علوم کی ترقی کا دور آئے، عالمی انٹرایکشن کا دور آئے، کامل آزادی خیال کا دور آئے، کھلے پن (openness) کا دور آئے، وہ تمام حالات پیدا ہو جائیں جب کہ وہ دعوتی پلاننگ کی جاسکے، جس کے ذریعے انسان پر کامل معنوں میں اتمام حجت کا واقعہ انجام پائے۔ غالباً یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیثِ رسول میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے۔ اب انسانی تاریخ اکیسویں صدی کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور میں عالمی شہادت کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page