تائید عام
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۵
تمام موافق حالات مکمل طور پر وقوع میں آچکے ہیں۔ اب پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اس دعوتی نشانے کو عملاً ظہور میں لایا جائے ، جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں ان الفاظ میں کی گئی ہے : لا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں باقی رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمے کو داخل کر دے گا۔
عالمی شہادت کا یہ تکمیلی واقعہ امت محمدی کے ذریعے انجام پانا ہے۔ اس کے مطابق امت محمدی کا آخری رول شہادتِ اعظم کی انجام دہی ہے۔ اس واقعے کی عملی صورت یہ ہے ـــ خدا کے کلام (قرآن) کا معیاری ترجمہ ہر زبان میں تیار کر کے اس کو پورے کرۂ ارض پر پھیلانا تا کہ قوموں کی اپنی قابل فہم زبان (understandable language) میں اللہ کی ہدایت ہر ایک کے پاس پہنچ جائے، اور اقامت حجت کا واقعہ پیش آجائے، ، تاکہ وہ معاملہ سامنے نہ آئے، جس کا بیان قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے : أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (7:172) ۔ یعنی قیامت کے دن انسان عذر کریں کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔
☆☆☆☆☆
موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن بہت بڑی نعمت ہے، مگر اس نعمت کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس کو اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے جدید کمیونی کیشن کو اب تک اسی اصل کام کے لیے استعمال نہ کیا جا سکا۔ اسلامی دعوت یہ ہے کہ اسلام کے مثبت پیغام کو قومی اور سیاسی آلائشوں سے پاک کر کے خالص ربانی انداز میں پھیلایا جائے۔ جدید کمیونی کیشن نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ دعوت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جا سکے ۔ جدید کمیونی کیشن کا اصل استعمال یہی ہے۔ جدید کمیونی کیشن کے دعوتی استعمال کے بعد، اس کے دوسرے استعمالات بھی جائز ہو سکتے ہیں۔ مگر دعوتی استعمال کے بغیر اس کے دوسرے استعمالات کا کوئی جواز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues