Al-Risala · July 2018 · page 36

We are under siege

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۶

معیار کی تبدیلی محمد سلیم موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر منفی (negative) ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اوروادھماکے میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ | ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھپے ہوئے ہیں محاصرے کی حالت میں ہیں:

We are under siege

وہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں اسلام دورِ مظلومیت میں ہے۔ اس مزاج کی وجہ سے مسلمانوں میں تشد دکار رجحان پیدا ہو گیا ہے۔ اس منفی ذہنیت کی ذمہ داری تمام تر موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں پر ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے معیار (criterion) کو بدل دیا۔ ان کے نزدیک اسلام کا بہتر حالت میں ہونا یہ ہے کہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہو۔ عثمانی خلافت کی طرح دنیا میں مسلم استعمار قائم ہو۔ مگر یہ معیار غلط ہے۔ اس معاملے میں صحیح معیار یہ ہے کہ مسلمانوں کو عمل کی آزادی حاصل ہو، اسلامی دعوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ پائی جائے۔

موجودہ زمانے میں اسلام کے لیے مطلوب حالت پوری طرح قائم ہے۔ آج فتنہ (religious persecution) ختم ہو گیا ہے۔ جدید ذرائع پوری طرح اسلام کے لیے سازگار ہیں، لیکن لوگ اپنے غلط معیار کی بنا پر منفی سوچ میں مبتلا ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا دور اسلام کے لیے تائید کا دور ہے۔ مگر اپنی غلط سوچ کی بنا پر یہ مسلمان سمجھتے ہیں کہ آج کا دور اسلامو فوبیا کا دور ہے۔ یہ تمام باتیں بالکل بے اصل ہیں۔ اگر مسلمان اپنے خود ساختہ معیار کو بدل لیں تو اچانک دیکھیں گے کہ دورِ جدید دورِ اسلام ہے۔ وہ اسلام کی تائید (support) کا دور ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر احساسِ شکست کا شکار نظر آتے ہیں۔ اس کا سبب شکست کا واقعہ نہیں ہے ۔ بلکہ ان کا شکست خوردہ نفسیات میں مبتلا ہونا ہے۔ اگر مسلمانوں کی سوچ بدل جائے اور وہ شکست اور فتح کی نفسیات میں سوچنے کے بجائے دعوتی مواقع کی اصلاح میں بدل جائے اور وہ شکست اور اپنی حساسیت میں ہونے کے بجائے دوری سوچنے لگیں ، تو اچانک صورت حال بالکل بدل جائے گی۔

اس کی امکلاں ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues

Printed page