پرامن طریق کار
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۷
پرامن طریق کار
پر امن اسلامی طریق کار کیا ہے، اس کی ایک کامیاب مثال کشمیر کی تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ کشمیر کو عام طور پر لوگ اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اس سے بھی زیادہ بڑی چیز موجود ہے۔ یہ اسلامی طریق کار کا وہ نمونه ہے جو میر سید علی همدانی (1314-1384ء) کی زندگی میں ملتا ہے۔ موصوف نے ، جن کو کشمیری عام طور پر "امیر کبیر" کہتے ہیں، اپنے عمل سے ایک عظیم قابل تقلید نمونه قائم کیا ہے، جس کی مثال حالیہ صدیوں میں کم ملے گی۔ کشمیر اپنے قدرتی مناظر کی وجہ سے اگر جنت نظیر ہے تو اپنے تاریخی نمونے کے ذریعہ وہ ہم کو اسلام کے طریق دعوت کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال (1877-1938ء) نے امیر کبیر کی بابت کہا تھا:
دست او معمار تقدیر امم
امیر کبیر کی بابت یہ الفاظ صد فی صد درست ہیں۔ موجودہ مسلم کشمیر زیادہ ترا میر کبیر ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مگر امیر کبیر نے یہ کام "شمشیر و سناں" کے ذریعہ نہیں کیا، انھوں نے یہ کامیابی "شمشیر و سناں" کو ترک کر کے حاصل کی۔ امیر کبیر کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو ٹکراؤ کے ذہن کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دو، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پرہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سر بلندی حاصل ہوگی۔
میر سید علی همدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ (1405-1335ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیموران سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ لگائیں اور ایران میں حکومت صالحہ قائم کرنے کی جدوجہد کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں ان کو شہید ہو جانا پڑے۔ مگر امیر کبیر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues