دست او معمار تقدیر امم
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸
نے اس قسم کے سیاسی تصادم سے پر ہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکل پڑے۔ افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 781 ھ میں کشمیر پہنچا۔ امیر کبیر اس سے پہلے 762 ھ میں اپنی سیاحت کے دوران کشمیر کو دیکھ چکے تھے۔
کشمیر پہنچ کر دوبارہ موقع تھا کہ یہاں سے شاہ تیمور کے خلاف سیاسی تحریک چلائی جائے۔ تیمور کے معاصرین میں ایسے لوگ تھے جو بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر تیمور سے بغض رکھتے تھے۔ امیر کبیر ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر تیموری اقتدار کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھ سکتے تھے، مگر امیر کبیر نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے مکمل پر ہیز کیا۔ اسی طرح قیادت کا ایک اور راستہ امیر کبیر کے لیے پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کے کشمیری مسلمانوں کی اقلیت کے معاشی اور سماجی حقوق کا مسئلہ تھا۔ اس وقت کشمیر میں اگر چہ ایک مسلم خاندان کی حکومت تھی، مگر کشمیری مسلمان، ریاست میں ایک کمزور اور غریب اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ ان سے جبراً بت خانوں کے نذرانے وصول کیے جاتے تھے۔ امیر کبیر ان کی طرف سے حقوق طلبی کی مہم چلا کر فی الفور مسلمانوں کے قائد بن سکتے تھے، مگر امیر کبیر نے اس قسم کی ملی سیاست سے بھی کوئی سروکار نہ رکھا۔ اسی طرح امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ انسانیت کے پیامبر بن کر اٹھیں، اور ریاست کے مختلف فرقوں کو امن کے ساتھ رہنے کا وعظ سنائیں۔ ایسا کر کے وہ بہت جلد دونوں فرقوں کے درمیان ہر دل عزیزی اور مقبولیت حاصل کر سکتے تھے۔ کیوں کہ ہر وہ تحریک لوگوں کو بہت پسند آتی ہے جس میں حق و باطل کا مسئلہ چھیڑے بغیر رواداری (tolerance) اور میل جول کا اپدیش دیاگیا ہو، جس میں کوئی زداپنے اوپر پڑتی ہوئی محسوس نہ کرے ۔ مگر اس قسم کی تحریک جلسوں اور تقریروں کی سطح پر خواہ کتنی ہی کامیاب نظر آئے، عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کا اسلامی دعوت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا کام، اپنی ظاہری خوش نمائی کے باوجود، صرف مسائل دنیا کی طرف متوجہ کرنے کا کام ہے، جب کہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو مسائل آخرت کی طرف متوجہ کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2018 All issues