Al-Risala · January 2018 · page 38

پیغمبر اسلام، پیغمبر حکمت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸

جہاں ردعمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ردعمل (reaction) کا شکار ہو کر ایسا منصوبہ بناتا ہے جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح کے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس دانش مندی کا اصول ہو۔ اس کے پاس ایک ایسا رہنما اصول ہو، جو اس کو ہر موقع پر درست راستے کی طرف رہنمائی کرتا رہے۔ اسی کا نام حکمت (wisdom) ہے، اور اسی حکمت کے اصول کو بتانا، پیغمبر کا سب سے زیادہ اہم کام ہے۔ فرشتے کی حمایت ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: بینما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس ومعه أصحابه وقع رجل بأبي بكر، فآذاه، فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثانية، فصمت عنه أبو بكر، ثم آذاه الثالثة، فانتصر منه أبو بكر، فقام رسول الله حين انتصر أبو بكر، فقال أبو بكر: بکر:أوجدت علي يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نزل ملك من السماء يكذبه بما قال لك، فلما انتصرت وقع الشيطان، فلم أكن لأجلس إذ وقع الشيطان (سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4896)۔ یعنی رسول اللہ ایک بار اپنے اصحاب کے ساتھ تھے کہ ایک شخص نے ابو بکر صدیق کو برا بھلا کہا اور ان کو تکلیف پہنچائی، ابو بکر صدیق خاموش رہے، اس نے پھر دوسری بار ابو بکر صدیق کو اسی طرح تکلیف دی، ابو بکر صدیق پھر بھی ان کے بارے میں خاموش رہے، اس نے تیسری بار بھی تکلیف پہنچائی تو ابو بکر صدیق نے اسے جواب میں کچھ کہہ دیا۔ ابو بکر صدیق نے جواب دیا تو رسول اللہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ دیکھ کر ابو بکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ، کیا آپ مجھ پر ناراض ہیں؟ رسول اللہ نے کہا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا وہ اس تکلیف پہنچانے والی کی تکذیب کرتا رہا، لیکن جب تم نے اسے جواب دے دیا تو شیطان آگیا، اور جب شیطان آجائے تو میں بیٹھنے والا نہیں۔

اس حدیث میں بظاہر ایک فرد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک عام واقعہ ہے۔ اس کا تعلق انفرادی معاملات سے بھی ہے، اور اجتماعی معاملات سے بھی۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page