Al-Risala · January 2018 · page 39

سب سے زیادہ کامیاب طریقہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۳۹

فطرت کا ایک قانون ہے کہ جب کوئی شخص مظلوم ہو، اور اپنی طرف سے کوئی کارروائی نہ کرے تو فرشتہ اس کی طرف سے کارروائی کرنے کے لیے آجاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، جب انسان اپنے معاملے کو خود اپنا معاملہ بنا کر جوابی کارروائی کرنا شروع کر دے تو وہ اکیلا ہو جاتا ہے۔ جس آدمی کا ساتھی فرشتہ ہو، وہ بلاشبہ سب سے زیادہ طاقت ور انسان ہے، اور جو آدمی اپنے معاملے کو خود اپنے ہاتھ میں لے لے تو اس وقت وہ ایک عام انسان بن جاتا ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں معلوم کہ وہ جیتے گا، یا فریق ثانی کے مقابلے میں ہار جائے گا۔ ایسی حالت میں وزڈم کیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ آدمی خود کو طاقتور بنائے، کمزور نہ بنائے۔

سب سے زیادہ کامیاب طریقہ

پیغمبر اسلام کو قرآن میں جو حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک حکمت وہ ہے جو پیغمبر یوسف کے حوالے سے قرآن میں آئی ہے۔ پیغمبر یوسف کنعان میں پیدا ہوئے، جو اب الخلیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ بقول اغلب 1910 تا 1800 ق م کا ہے۔ ان کے ساتھ کچھ خاندانی اسباب پیدا ہوئے، اور وہ فلسطین سے نکل کر مصر پہنچ گئے۔ اس زمانے کا مصر کا بادشاہ ان سے متاثر ہوا، اور اس نے آپ کو اپنی سلطنت میں پورے ملک کی زراعت کا انچارج بنا دیا۔ پیغمبر یوسف ایک گاؤں سے نکل کر مصر پہنچے تھے۔ ان کو یہ غیر معمولی کامیابی کیسے حاصل ہوئی۔ اس کا راز یہ تھا کہ انھوں نے اس وقت کے بادشاہ مصر سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ ایسا طریقہ اختیار کیا، جس کو پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ کہا جا سکتا ہے۔ وہ پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ یہ تھا کہ پیغمبر یوسف اس پر راضی ہو گئے کہ حکومت کے تخت پر بادشاہ بدستور قائم رہے، لیکن ملک کے خزائن (زرعی نظام) پیغمبر یوسف کے ہاتھ میں ہو۔

یہ قصہ قرآن اور بائبل، دونوں میں آیا ہے۔ بائبل (پیدائش، 41:40) میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہے: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ ترہوں گا:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page