يبتغون فضلاً من الله ورضواناً
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۲۶
اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسل کامل طور پر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہوگیا تھا، اللہ کی کبریائی کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی، جب کہ انسان شعوری طور پر اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ادراک کر لیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجز و مطلق ہونے کا شعور اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی، اس کا واحد کَنْسَرْن (sole concern) اللہ وحدہ لاشریک بن جاتا ہے۔ یہی توحیدِ کامل ہے، اور اصحاب رسول اس توحیدِ کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔
يبتغون فضلاً من الله ورضواناً
اصحاب رسول کی پانچویں صفت وہ ہے جس کو قرآن میں ’’یبتغون فضلاً من اللہ و رضواناً“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسول کی معرفت نے اُن کے اندر اللہ کی ذات پر کامل یقین پیدا کر دیا تھا، وہ اللہ پر کامل اعتماد (confidence) والے بن گئے تھے، وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ دینے والا بھی اللہ ہے اور چھیننے والا بھی اللہ، کامیابی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ناکامی کا سرا بھی اللہ کے ہاتھ میں۔ وہ ہر دوسری چیز سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے بن گئے تھے، اُن کی امیدیں اور آرزوئیں تمام تر اللہ پر منحصر ہو گئی تھیں۔ سيماهم في وجوههم من أثر السجود اصحاب رسول کی چھٹی صفت کو قرآن میں ”سيماهم في وجوههم من أثر السجود“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصحاب رسول کی دریافتِ حقیقت نے اُن کے اندر آخری حد تک وہ صفات پیدا کر دی تھیں جن کو سنجیدگی (sincerity) اور تقویٰ اور تواضع کہا جاتا ہے۔ یہی کمالِ انسانیت کی پہچان ہے، یہی وہ صفات ہیں جو کسی انسان (man) کو اعلیٰ انسان (super man) بناتی ہیں۔ ان صفات کی حامل شخصیت کو ربانی شخصیت (divine personality) کہا جاتا ہے۔ اصحاب رسول بلا شبہ ان صفات میں کمال درجے پر تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues