يبتغون فضلاً من الله ورضواناً
الرسالہ، اگست ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷
اس کے بعد اصحاب رسول کی اُس خصوصیت کو بیان کیا گیا ہے جس کا ذکر انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے ان الفاظ میں آیا ہے کہ اُس نے ایک اور تمثیل ان کے سامنے پیش کر کے کہا کہ آسمان کی بادشاہی اُس رائی کے دانے کی مانند ہے جس کو کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بودیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے، مگر وہ جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں:
Another parable he put forth to them, saying: “The kingdom of heaven is like a mustard seed, which a man took and sowed in his field, which indeed is the least of all the seeds, but when it is grown, it is greater than the herbs and becomes a tree, so that the birds of the air come and nest in its branches”. (Matthew 13: 31-32)
اصحاب رسول کی جو صفت تو رات میں مختصراً اور قرآن میں تفصیلاً بیان کی گئی ہے، اُس کا تعلق اصحاب رسول کی انفرادی خصوصیات سے ہے۔ یہ اعلیٰ خصوصیتیں ہر صحابی کے اندر کامل درجے میں پائی جاتی تھیں۔ ان خصوصیات نے ہر صحابی کو، ایک مستشرق کے الفاظ میں، ہیرو (hero) بنا دیا تھا۔
اصحاب رسول کی دوسری صفت جو انجیل اور قرآن دونوں میں آئی ہے، وہ تمثیل کی صورت میں اُس اجتماعی انقلاب کو بتاتی ہے جو اصحاب رسول کے ذریعے برپا ہوا تھا۔ یہ تمثیل ایک درخت کی صورت میں ہے۔ اس درخت کا بیج پیغمبر اسلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے صحرائے عرب میں لگایا گیا تھا۔ اس کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی قربانیوں کے ذریعے ہوا تھا۔ یہ پودا نسل در نسل بڑھتا رہا۔
اصحاب رسول اسی تاریخی نسل کا اگلا حصہ تھے۔ اصحاب رسول نے غیر معمولی قربانی کے ذریعے یہ کیا کہ انھوں نے توحید کے نظریے کو فکری انقلاب کے دور تک پہنچا دیا۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of August 2018 All issues