Al-Risala · January 2018 · page 40

سب سے زیادہ کامیاب طریقہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۰

Only as regards the throne will I be greater than you. (Genesis 41:40)

پیغمبر یوسف کے قصے کو قرآن میں احسن القصص یعنی بہترین طریق کار (best method) قرار دیا گیا ہے۔ یہ بہترین طریق کار کیا تھا، جس نے پیغمبر یوسف کو قدیم مصر میں اعلیٰ مواقع عطا کر دیے۔ وہ طریق کار ایک لفظ میں یہ تھا— سیاسی اقتدار کے ساتھ پولیٹیکل اپوزیشن کے بجائے پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہ طریقہ جو پیغمبر یوسف نے اختیار کیا، وہ قدیم زمانے میں بھی سب سے زیادہ کامیاب طریقہ تھا، اور موجودہ زمانے میں بھی وہ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے۔ دانش مندانہ پالیسی پیغمبر اسلام نے ایک حکیمانہ نصیحت ان الفاظ میں کی ہے : لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه، قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيق (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2254)۔ یعنی کسی مومن کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ صحابہ نے پوچھا: کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرتا ہے۔ آپ نے کہا: ایسے امر مشکل کا وہ سامنا کرے جس سے نمٹنے کی اس میں طاقت نہ ہو۔

زندگی میں ایسے مواقع پیش آتے ہیں، جب کہ آدمی کا سامنا ایسی صورت حال کے ساتھ ہوتا، جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ معلوم رہتا ہے کہ اگر اس کا سامنا کیا گیا تو اس کا نتیجہ یک طرفہ طور پر آدمی کی اپنی تباہی کی صورت میں ہوگا۔ اس طرح کا ٹکراؤ جو یک طرفہ طور پر آدمی کی ناکامی کا سبب بنے، وہ پیغمبر اسلام کے طریق کار کے عین خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام کا طریق کار یہ ہے کہ آدمی غیر نزاعی انداز (non-confrontational method) اختیار کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ نزاعی طریقہ (confrontational method) کو اختیار کرنا پیغمبر اسلام کی سنت کے سراسر خلاف ہے۔ غیر نزاعی طریق کار آدمی کے لیے ہمیشہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، نزاعی طریق کار ہمیشہ آدمی کے لیے برعکس نتیجہ (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page