Al-Risala · January 2018 · page 41

معاملات کو خدا کی روشنی میں دیکھنا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۱

معاملات کو خدا کی روشنی میں دیکھنا

پیغمبرِ اسلام کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے : اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی مومن کی فراست سے بچو، وہ اللہ کی روشنی میں دیکھتا ہے۔ مومن وہ انسان ہے، جس کی اعلیٰ دریافت اس کو کٹ ٹو سائز (cut to size) بنا دے۔ ایسا آدمی ایک متواضع انسان (modest person) ہوتا ہے۔ اس کا طریق فکر اس کو آخری حد تک حقیقت پسند انسان بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان چیزوں کو ایز اٹ از (as it is) دیکھنے لگتا ہے۔ وہ حالات میں گھر کر نہیں سوچتا ہے، بلکہ وہ حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح پاک ہوتا ہے۔ وہ احساسِ برتری کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کی یہ صفات اس کو اس قابل بنا دیتی ہیں کہ وہ اعلیٰ حکمت کے تحت سوچے اور اعلیٰ حکمت کے تحت فیصلہ کرے ۔ مومن کی یہ صفات اس کو نا قابلِ تسخیر بنا دیتی ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو کرنا چاہیے، اور اس بات سے بچتا ہے، جس سے اسے بچنا چاہیے۔ اس بنا پر اس کا منصوبہ ہمیشہ حقیقت پسندانہ منصوبہ ہوتا ہے۔ مومن کی یہ صفات اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ اس کا منصوبہ ہمیشہ کامیاب رہے۔ وہ کبھی خود پیدا کردہ ذلت کا شکار نہ ہو۔

چپ رہنا بھی کام ہے

پیغمبرِ اسلام نے اپنی امت کو ایک حکیمانہ نصیحت ان الفاظ میں بتائی ہے: إذا قلت لصاحبك يوم الجمعة : أنصت، والإمام يخطب، فقد لغوت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 934)۔ یعنی جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو: چپ رہ، تو تم نے ایک لغو کام کیا۔

اگر مسجد کا امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہے، اور اس وقت کوئی شخص بول پڑے تو سننے والے کو اشارے سے اس کو چپ کرانا چاہیے ۔ اگر وہ خود بھی بول کر اس کو چپ کرائے تو یہ ایک لغو (nonsense) کام ہوگا۔ کیوں کہ پہلے صرف ایک آدمی بولنے والا تھا، اب بولنے والے دو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page