Al-Risala · January 2018 · page 42

انتظار کی حکمت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۲

ہو گئے۔ گویا مسئلہ میں اضافہ ہو گیا۔ اس قسم کا طریقہ بلاشبہ ایک لغو طریقہ ہے۔ اس حکمت کا تعلق صرف مسجد کی نماز سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں دخل دینا، معاملے کو اور زیادہ بگاڑنے کا سبب بن جانا ہے۔ ایسے موقعوں پر دانش مندی یہ ہے کہ آدمی خاموشی کا طریقہ اختیار کرے، وہ ہر گز دخل اندازی کر کے معاملے کو زیادہ پیچیدہ نہ بنائے۔ یہ ایک دانش مندی کی بات ہے کہ آدمی یہ جانے کہ کب اسے عمل کرنا ہے، اور کب عمل نہیں کرنا ہے۔

آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی معاملے میں انجام کو سوچے ۔ وہ جانے کہ کب بولنا ہے، اور کب چپ رہنا ہے۔ کب آگے بڑھنا ہے، اور کب پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ کب اقدام کرنا ہے، اور کب اقدام سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچانا ہے۔ کب جیتنے کی کوشش کرنا ہے، اور کب اپنی ہار مان لینا ہے۔ جو لوگ اس دانش مندی کے حامل ہوں، وہی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرتے ہیں، اور جو لوگ اس دانش مندی سے بے خبر ہوں، ان کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سوچے سمجھے بغیر کسی معاملے میں کود پڑیں، اور اس کے بعد جب فطری قانون کے تحت وہ بربادی سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ظلم کے خلاف کبھی ختم نہ ہونے والی شکایت کا دفتر کھول دیں۔

انتظار کی حکمت

زندگی کی ایک حکمت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بتائی ہے : أفضل العبادة انتظار الفرج (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3571)۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرنا، ایک افضل عبادت ہے۔ انسان جب کوئی کام کرتا ہے، تو اس میں ایک فیصد حصہ اس کی اپنی کوشش کا ہوتا ہے، اور ننانوے فیصد حصہ فطرت کے قانون (law of nature) کا۔ فطرت کا قانون خالق کا مقرر کردہ ہے، وہ اپنی رفتار سے چلتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر انسان جلدی نہ کرے، اور انتظار کی پالیسی اختیار کرے تو گویا کہ وہ فطرت کے عمل (process) کی تکمیل کا انتظار کر رہا ہے۔ اس بنا پر اس کا انتظار ایک عبادت بن جاتا ہے۔ اس قسم کی عبادت ایک اعلیٰ درجے کی حکمت

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page