Al-Risala · January 2018 · page 43

I am in hurry, but God isn't

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۳

(wisdom) ہے۔

ایک مسیحی پادری اپنے گھر کے سامنے ایک ہرا بھراااا درخت دیکھنا چاہتا تھا۔ انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ ایک ہرا بھر درخت لائیں، اور اپنے گھر کے سامنے اس کو لگادیں۔ انھوں نے کچھ مزدوروں کی مدد سے ایسا ہی کیا۔ لیکن اگلی صبح کو جب وہ اٹھے تو درخت کے پتے مرجھا چکے تھے۔ چند دن کے بعد درخت پوری طرح سوکھ گیا۔ اس وقت ان کے ایک دوست ان سے ملنے کے لیے آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا پادری دوست بہت زیادہ غمگین ہے۔ دوست نے اس کا سبب پوچھا۔ پادری نے کہا، میں جلدی میں ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا:

I am in hurry, but God isn't

اس کا مطلب یہ تھا کہ خدا کے قانون کے مطابق، اپنے گھر کے سامنے ایک ہرا بھر درخت دیکھنے کے لیے مجھے دس سال کا انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر میں چاہوں کہ ایک دن کے اندر میرے گھر کے سامنے ہرا بھر درخت کھڑا ہو جائے تو ایسا ہونا فطرت کے قانون کے مطابق ممکن نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ جب وہ کوئی منصوبہ بنائے تو اپنی خواہش کی بنیاد پر منصوبہ نہ بنائے، بلکہ غور کر کے یہ سمجھے کہ فطرت کے قانون کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے لیے کتنی مدت درکار ہے، اور اس مدت کو اپنے پروگرام کا جزء قرار دے۔ یہی اس دنیا میں دانش مندی کا اصول ہے۔ ٹکراؤ کے بغیر کامیابی پیغمبر اسلام نے زندگی کی ایک حکمت کو ان الفاظ میں بتایا ہے: نصرت بالرعب علی العدو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 523)۔ یعنی مجھے رعب کے ذریعہ دشمن پر مدد دی گئی ہے۔ یہ پیغمبر کی فضیلت کی بات نہیں ہے، بلکہ فطرت کے قانون کے مطابق یہ اعلیٰ تدبیر کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ردعمل (reaction) کے بجائے مثبت انداز میں اپنے عمل کا منصوبہ بناؤ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر تمھیں کسی کی طرف سے عداوت کا سامنا ہو تو عداوت کے مقابلے میں جوابی عداوت کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ عداوت کے جواب میں پر امن تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ پرامن تدبیر تم کو اس قابل

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page