Al-Risala · January 2018 · page 44

چھوٹی برائی پر راضی ہونا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۴

بنائے گی کہ تم کسی ٹکراؤ کے بغیر صرف پر امن تدبیر سے کامیابی حاصل کرلو۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ یہ حسن تدبیر کی اثر انگیزی کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی پر اسرار فضلیت کا معاملہ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلاَ تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلاَ السِّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34) یعنی بھلائی اور برائی برابر نہیں، تم دور کرو اس سے جو بہتر ہو، تو تم دیکھو گے کہ تمھارے اور جن کے درمیان دشمنی ہے وہ گویا قریبی دوست بن گیا۔

چھوٹی برائی پر راضی ہونا

پیغمبر اسلام کے معاصر اہل ایمان کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے۔ یہ اصحاب رسول مسلسل طور پر پیغمبر اسلام کے زیر تربیت تھے۔ اصحاب رسول نے کچھ باتوں کو پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کر کے ان کو قول رسول کے طور پر بیان کیا ہے، ان کو حدیث کہا جاتا ہے۔ اس کے سوا بہت سی باتیں ایسی ہیں، جن کو اصحاب رسول نے رسول کا حوالہ دیے بغیر اپنے طور پر بیان کی ہیں۔ اس قسم کی باتوں کو اثر کہا جاتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ باتیں بھی پیغمبر اسلام کی تعلیم کردہ باتیں ہیں۔ اگرچہ کتابوں میں وہ آثار صحابہ کے طور پر نقل ہوئی ہیں۔

انھیں میں سے ایک وزڈم کی بات وہ ہے جو صحابی رسول حبیب بن خماشة کے حوالے سے حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس اثر کے الفاظ یہ ہیں: من لا يرضى بالقليل مما يأتي به السفيه يرضى بالكثير (المعجم الاوسط للطبرانی، اثر نمبر 2258) یعنی جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر راضی نہ ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا۔

یہ ایک دانشمندانہ اصول ہے۔ زندگی میں کامیابی کے لیے یہ بے حد ضروری اصول ہے۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے ہر انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ یہ آزادی براہ راست طور پر خالق کا ایک عطیہ ہے۔ کوئی بھی شخص اس آزادی کو انسان سے چھین نہیں سکتا۔ یہ آزادی برائے امتحان ہے۔ اللہ رب العالمین کو دیکھنا ہے کہ کون شخص اپنی ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے، اور کون

‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues

Printed page