عقل مندی کی پہچان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۵
شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اسی صحیح استعمال یا غلط استعمال پر انسان کے ابدی انجام کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ یہ آزادی خالق کے تخلیقی منصوبہ کا ایک حصہ ہے، اور جو چیز تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہو اس کو ختم کرنا کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔
ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے۔ یا تو وہ دوسرے انسانوں کی آزادی کو روکنے کے لیے ہمیشہ ان سے لڑتا رہے، اور کبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ آدمی اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے آرٹ آف مینجمنٹ (art of management) کو سیکھے۔ وہ دوسروں کی ناپسندیدہ روش کو بچ کرتے ہوئے اپنا راستہ بنائے۔ یعنی وہی طریقہ جس کو شارع عام (public road) پر چلتے ہوئے ہر آدمی اختیار کرتا ہے، اور کامیابی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔
اس اصول کو استعمال کرنے کی صورت میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی آزادی سے کچھ نقصان پہنچے گا۔ دانش مند آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے نقصان کو نظر انداز کرے۔ اگر وہ ایسا کرے کہ اس قسم کے نقصان کو برداشت کرنے کے بجائے، اس پر لڑائی شروع کر دے تو ایسا ٹکراؤ صرف اس کے نقصان میں اضافہ کرے گا۔ اس لیے دانش مندی کا اصول یہ ہے کہ کم نقصان پر راضی ہو جاؤ، تاکہ اپنے آپ کو بڑے نقصان سے بچاسکو۔
یہ اصول ایک عام اصول ہے۔ خاندانی زندگی میں بھی، سماجی زندگی میں بھی، اور قومی زندگی میں بھی۔ عقل مند آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے نقصان کو تجربہ (experience) کے خانے میں ڈال دے۔ وہ ایسے نقصان سے سبق سیکھے۔ وہ ایسے نقصان سے اپنے لیے بہتر منصوبہ بندی (planning) کا راز دریافت کرے۔
عقل مندی کی پہچان
عمرو بن العاص پیغمبر اسلام کے ایک صحابی تھے۔ ان کا ایک قول کتابوں میں اس طرح نقل کیا گیا ہے: ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، ولكن العاقل الذي يعرف
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues