عقل مندی کی پہچان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۶
خیر الشرین (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 670) ۔ یعنی دانش مند آدمی وہ نہیں ہے، جو خیر اور شر کو جانے لیکن دانش مند آدمی وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے بہتر کون سا ہے۔ صحابی رسول کا یہ قول زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتا تا ہے۔ وہ یہ کہ زندگی میں انتخاب (option) خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ کسی صورت حال میں اس کے لیے کمتر درجہ کی برائی (lesser evil) کیا ہے۔ مثلاً سڑک پر آپ کی کسی سے ٹکر ہو گئی تو یہ کمتر درجہ کا مسئلہ ہے۔ لیکن ایسا ہونے پر اگر آپ کو غصہ آجائے، ، اور آپ لڑنا شروع کر دیں تو اس کے بعد دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے گی ۔ اور اس کا انجام یہ ہوگا کہ اس کے بعد آپ یا تو اسپتال میں ہوں گے یا قبرستان میں ۔ پہلے اگر آپ کا کپڑا پھٹ گیا تھا تو اب آپ کو ٹوٹے ہوئے ہاتھ پاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے اگر سڑک پر مسئلہ ختم ہو گیا ہوتا تو اب مسئلہ کورٹ میں جائے گا، اور سالوں تک کے لیے آپ کا سکون برہم ہو جائے گا۔
ایسا اس لیے ہے کہ دنیا میں ہر شخص اپنے قول وفعل کے لیے آزاد ہے۔ آپ کسی کے قول و فعل پر پابندی نہیں لگا سکتے ۔ آپ اعراض کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے دوسروں کی منفی کارروائی کے انجام سے خود کو بچا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ اعراض کے اصول کو اختیار نہ کریں تو آپ کو ایسے انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی کوئی حد نہ ہوگی۔ اس دنیا میں عافیت کا اصول صبر ہے۔ صبر کے سوا جو طریقہ اختیار کیا جائے ، وہ مسئلہ کو صرف بڑھائے گا، وہ مسئلہ کو ختم کرنے والا نہیں۔ ☆☆☆☆☆ موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس بہت تھوڑا وقت ہے، اور اسی طرح بہت تھوڑے وسائل۔ ایسی حالت میں یہ ہر شخص کی لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرنا جانے ۔ جو آدمی ایسا نہیں کرے گا اس کو آخر میں حسرت کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues