عقل مندی کی پہچان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۷
مستقبل کی پلاننگ مستقبل کی پلاننگ کے لیے پیشگی گائڈلائن پیغمبر اسیلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں ہوا۔ آپ خاتم النبیین (Final Prophet) ہیں، آپ کی نبوت کی عمر 23 سال تھی۔ لیکن اللہ کی توفیق سے آپ نے امت محمدی کو پیشگی طور پر ایسی گائڈلائن بتا دی جو انسانی تاریخ کے آخری دور تک کو کور (cover) کرنے والی تھیں۔ پیغمبر اسلام نے امت محمدی کو جو گائڈ لائن دی، اس کا ایک حصہ ایسا تھا جو ہر زمانے کے لیے قابل تطبیق (applicable) تھا۔ یہ حصہ فقہ کی صورت میں مدون ہو گیا۔ مگر اس کے ساتھ دوسرا حصہ وہ تھا جو مستقبل کے اعتبار سے تھا۔ اس حصہ میں پیغمبر اسلام نے معاصر زبان میں مستقبل کی باتیں کہیں۔ دوسرے لفظوں میں روایتی دور میں وہ باتیں کہیں جو بعد کو سائنٹفک ایج میں رہنما بننے والی تھیں۔ اس دوسرے حصہ کو سمجھنے کے لیے صرف قرآن و حدیث کا روایتی علم کافی نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کو دور ما بعد، دوسرے الفاظ میں سائنٹفک ایج (scientific age) کا گہرافہم (deep understanding) حاصل ہو، دین کی صرف روایتی معرفت اس کے لیے کافی نہیں۔ اس حیثیت سے یہاں موضوع کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
اس پہلو سے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وسنت میں پہلی نوعیت کی باتیں حکم کی زبان میں ہیں۔ جب کہ دوسری نوعیت کی باتیں خبر کی زبان میں آئی ہیں۔ یہ فرق گویا ایک سراغ (clue) ہے، جو زیر نظر پہلو کا مطالعہ کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
1۔ مثلاً قرآن کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔
یہاں خبر کے اسلوب میں یہ کہا گیا ہے کہ قرآن عالمین (تمام اقوام عالم) کے لیے نذیر (warning) ہے۔ یہاں غور طلب ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے نصف اول میں وہ اسباب
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues