Al-Risala · October 2018 · page 48

تخلیقی مشوره

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۸

اسلام کا تعارف کرواتے ہیں، اور ان کو ترجمہ قرآن دیتے ہیں۔

اسلامی مرکز کا مشن نہ صرف انڈیا میں پھیل رہا ہے، بلکہ پڑوسی ملک پاکستان میں بھی الرسالہ مشن کو بڑے پیمانے پر پذیرائی مل رہی ہے۔ پاکستان کیے مختلف ناشرین کتب صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کو شائع کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ سی پی ایس پاکستان کی صورت میں ایک مضبوط ٹیم وجود میں آچکی ہے، جس کے ذریعے اسلامی مرکز کی اردو میگزین، ماہنامہ الرسالہ اور انگلش میگزین اسپرٹ آف اسلام پاکستان میں چھاپی جاتی ہیں، اور پاکستان میں انھیں بڑے ذوق وشوق سے پڑھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر اسلامی مرکز کی کتابیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ ان کے ذریعے اسلامی مرکز کا پیغام پاکستان کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔ ذیل میں پاکستان کے چند قارئین کا تاثر دیا جا رہا ہے :

جناب طارق بدر صاحب ( کو آرڈی نیٹر ، سی پی ایس، پاکستان ) لکھتے ہیں : پاکستان میں مختلف مقامات کا سفر کرنے کے بعد میں نے یہ جانا کہ مولانا کی فکر کی قبولیت ان کی ذاتی مقبولیت سے زیادہ ہے۔ تقریباً تمام علمائے کرام ان سے واقف ہیں، اور ان کی تصانیف کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ سے اختلاف کرنے والے علما بھی دین کے لیے آپ کی خدمات کا اعتراف کے بغیر نہیں رہتے۔ ہمارے پاس مولانا کی 20 مختلف عنوانات پر ایسی کتابیں ہیں جن کو جامعہ اشرفیہ (لاہور) پاکستان نے شائع کیا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں دیوبندی مکتبہ فکر کا ایک بہت بڑا طباعتی ادارہ ہے۔ پچھلے سال انہوں نے 2000 کے قریب مولانا کی کتابیں ہمیں عطیہ کیں، جن میں ظہور اسلام، اسلام اور عصر حاضر، دین کی سیاسی تعبیر وغیرہ شامل ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس قسم کےمواقع سے فائدہ اٹھائیں، اور اس مشن کو آگے بڑھائیں۔

مولانا کی کتابوں کے مطالعہ سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ آخرت اور مابعد الموت کے بارے میں میرے اندر فکری بیداری پیدا ہوئی ہے، اور عمل کو شعوری انداز میں کرنے کی کوشش کرنے لگا ہوں۔ مولانا کی کتابوں سے میرے اندر وہ استعداد ہو گئی ہے، جس سے جدید تعلیم یافتہ حضرات میری باتوں کو سمجھ سکیں۔ جمعہ کے بیان میں ان مثالوں کو بیان کرنے سے لوگوں کے دلوں میں دین پر عمل کرنے کا شوق پیدا ہو گیا ہے۔ مجھے دعوت دینے کے طریقے آگئے ہیں، اور مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع پہچاننے کا ذہن میرے اندر مولانا کی کتابوں سے آیا ہے۔ اس طرح کے بے شمار فائدے ہیں، جو میں نے حضرت کی کتابوں و تصنیفات کے مطالعے سے حاصل کی ہیں۔ اللہ ہمیں مزید استفادہ کرنے کی توفیق دے (محمد صدیق، امام مسجد ، کوئٹہ)

میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ مجھے بچپن سے مذہبی لٹریچر کو پڑھنے کا شوق تھا۔ میرے والد کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔ میں نے بچپن میں جماعت اسلامی کے کسی میگزین میں پہلی مرتبہ مولانا کا نام تعبیر کی غلطی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page