تخلیقی مشوره
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۹
کے کتاب کے حوالے سے سنا تھا۔ لیکن اس وقت کتاب تک رسائی نہ ہوسکی۔ 2015 میں اس کتاب تک رسائی ہوئی۔ اس کتاب کے مطالعے نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ چنانچہ میں نے مولانا کی مزید کتابیں ڈاؤنلوڈ کیں، اور ان کا مطالعہ کیا، تو مجھے لگا کہ میں ایک نئی دنیا سے متعارف ہوگیا ہوں۔ اس کے بعد میں نے مولانا کی انٹرنیٹ پر موجود تمام تقریروں کو ڈاؤنلوڈ کرکے سنا، جس سے مجھے کافی فائدہ ہوا۔ اس وقت میں ابوظہبی میں Quran distributer ہوں، اور اپنے دوستوں کو مولانا کی کتابیں دے کر انھیں ان کا مطالعہ کرنے پر ابھارتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا کے لٹریچر نے میری زندگی کا رخ تبدیل کیا۔ میں پہلے سیاسی اسلام کا کو ماننے والا تھا، اب میں خود کو ایک داعی سمجھتا ہوں۔ اس کے علاوہ جو تبدیلیاں میرے اندر پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں : (1) میں ایک شعوری مسلمان بن گیا ہوں۔ (2) میرے اندر غیر مسلم کے لیے خیر خواہی پیدا ہوئی ہے۔ (3) دعوت کی اسپرٹ پیدا ہوئی۔ (4) آخرت کی جواب دہی کا شدید احساس۔ (5) میرے اندر صبر اور برداشت کا مادہ پیدا ہوا ہے۔ (6) معمولی لغزش کے بارے میں بھی میں بہت حساس ہوگیا ہوں۔ (7) تکبر کے بجائے تواضع کو اپنا چکا ہوں ۔ (8) نمازوں کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا ۔ (9) دنیا سے بے رغبتی۔ (10) میرے اندر سے نفرت اور انتقام کا جذبہ حیرت انگیز حد تک کم ہو چکا ہے۔ (11) اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اب میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بھی تدبر اور توسم کا طریقہ اختیار کرتا ہوں۔ یہ تمام خصائص میری زندگی کا اثاثہ ہیں۔ اس لیے میں مولانا کا بہت احسان مند ہوں۔ (محمد عامر قریشی، کوھاٹ پاکستان، مقیم حال ابوظہبی)۔ مولانا صاحب کی تعلیم میں ایک سبق بہت نمایاں ہے۔ وہ یہ کہ معاملات کو گہرے تدبر، غیر جانبدارانہ انداز میں، اور سچائی کے ایک طالب علم کی طرح دیکھنا، سننا اور پڑھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا صاحب کی تحریروں کی ریکارڈنگ کرکے لوگوں کے درمیان پھیلانے کی کوششیں کرتا ہوں تاکہ جس علم و حکمت سے مجھے فائدہ پہنچ رہا ہے، ان کو دوسرے لوگوں تک بھی آواز کی صورت میں منتقل کر سکوں۔ (ڈاکٹر خالد سعید، کراچی) مولانا ایک ایسے صوفی ہیں جنہوں نے اللہ سے قربت کا بہت ہی آسان راستہ بتایا ہے، اس میں نہ ہی تصوف کی پیچیدگیاں ہیں اور نہ ہی کوئی ابہام۔ مولانا کے نظریے کی یہ خاص بات ہے کہ آپ صرف اور صرف توحید کے قائل ہیں۔ پیری مریدی سے نکل کر صرف اور صرف اللہ کی ذات سے مضبوط رشتہ قائم کرنا، آپ کی تعلیم کا خاصہ ہے۔ (عبدالغفور کندی، کے پی کے)
مولانا کی باتیں حوصلہ افزا اور دل و دماغ کو تازگی بخشتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر منفی جذبات کے خلاف اینٹی بائیوٹک کی طرح کام کرتی ہیں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین (احمد شاہ جمالی، ڈیرہ غازی خان) اگر ہم اپنے ارد گرد موجود اسلامی سوچ (روایتی مذہبی سوچ) کا جائزہ لیں تو ایک منفی سوچ پیدا ہوتی ہے ۔ یوں لگتا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues