Al-Risala · October 2018 · page 50

تخلیقی مشوره

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۵۰

ہے کہ جیسے ہر جگہ اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے دشمنی ہے، لیکن جب ہم مولانا کی تحریروں کو پڑھتے ہیں تو ایک positive احساس بیدار ہوتا ہے، جو بتاتا ہے کہ ہمارے لیے موجودہ زمانے میں کیا مواقع ہیں، اور ہمارے طرزِ عمل میں غلطی کیا ہے، جس کو ہمیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا کی تحریریں فطری انداز میں کلام کرتی ہیں۔ میں جب کبھی مولانا کو پڑھتا ہوں، مجھے اپنے اندر ایک سکون محسوس ہوتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے مجھے میری کھوئ ی ہوئی کوئی چیز مل گئی یا میں نے اپنی تلاش کا حقیقی حل پا لیا۔ (فیصل عبد الرشید، کراچی) کن الفاظ کے ساتھ مولانا وحید الدین صاحب کا شکریہ ادا کیا جائے۔ بات اگر کی جائے ان کی تحریروں اور ان کے پیغامات کی تو لاجواب۔ مولانا تو اندھیرے میں امید کا چراغ اور مایوسی میں امید و حوصلہ دینے والے شخص ہیں۔ اگر ایک شخص زندگی کی بازی ہار بیٹھا ہو، اور وہ خود سوزی کے لیے تیار ہو، اس وقت مولانا صاحب کا ایک قول ایسے انسان کو زندگی کی امید دینے کے لیے کافی ہے۔ مولانا ہار کر جیتنے کا پیغام دیتے ہیں، میل جول اور اتفاق و بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔ خود اعتمادی کا بیج بوتے ہوئے اپنی ذات کی پہچان کرواتے ہیں۔ اس عظیم انسان کے کام تاریخ میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے۔ (شہزادہ بابل جان، کوئٹہ)

مولانا صاحب کی تحریروں کو پڑھنے سے پہلے میرے اندر بہت ہی زیادہ منفی سوچ موجود تھی، مولانا کو پڑھنے کے بعد میرے اندر بہت زیادہ بدلاؤ آیا ہے۔ منفی سوچ مثبت سوچ میں بدل چکی ہے۔ (حسن افضل، ملتان) مولانا کی تحریر کا فوکس امن ہے، شروع میں یہ بہت broad term محسوس ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ امن کی اہمیت ذاتی زندگی میں روشناس ہونا شروع ہوئی۔ پھر پیغمبر اسلام کی زندگی کو جیسے مولانا نے لکھا اس سے امن کا مطلب بہت clear ہوتا چلا گیا۔ صبر، بردباری، صاف دلی، اللہ کی بندگی ، اللہ کی مخلوق کی خدمت ، اصل جہاد ہے۔ مولانا نے ان دینی اصطلاحات کے درست معنی کو سمجھانے کی کامیاب کوشش کی۔ جب سوچ کو درست سمت میں فوکس کر دیا جائے تو علم کے راستے خود کھلتے ہیں۔ مولانا نے سمت بھی دکھائی ہے، اور فوکس بھی رکھا ہے۔ اسی وجہ سے نظریات اور مقصدِ حیات اللہ کے دین کے مطابق ڈھالنے میں بہت آسانی ہونے لگی۔ سکون سچ سے ملتا ہے۔ ایسے میں قرآن کا سچ اصل حقیقت سے بیان کر کے سکون کے متوالوں کو ایک راہ دکھادی ہے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے، مولانا کے ایک کتابی سٹال کے دوران انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسٹیج پر شور وغل سن کر ایک صاحب نے مجھے کہا کہ ان لوگوں نے مولانا کو نہیں پڑھا، اس لیے شور کر رہے ہیں۔ اگر پڑھ لیں تو خاموش ہو جائیں گے۔ اس سے بڑا کیا change ہوگا کہ مولانا کی تحریر انسان کو بولنا نہیں، سکون خاموشی سکھاتی ہے۔ مولانا کی تحریروں اور لیکچرز سے میں اور میری اہلیہ نے اپنے آپسی، دنیوی اور معرفتی معمولات کو بہت improve کیا ہے۔ جزاك اللہ۔ (شاہد رانا، اسلام آباد)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page