فضیلت کا تصور
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴
دے۔ ایک قسم کی حدیث کے معاملے میں شدت، اور دوسری قسم کی حدیث کے معاملے میں تساہل جہاں تک میں جانتا ہوں اس تفریق کو درست قرار دینے کے لیے قرآن یا حدیث میں کوئی حوالہ موجود نہیں۔ اصولی طور پر یہ بات بلا اختلاف درست ہے کہ رسول اللہ کی تمام حدیثوں کو یکساں معیار پر جانچنا چاہیے۔
حدیث کے معاملے میں اس قسم کا تساہل اختیارکیا گیا تا کہ اس سے لوگوں کو عمل کے لیے ترغیب ملے گی ۔ مگر یہ قیاس درست نہیں۔ اس لیے کہ انسانی نفسیات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس سے ان کے اندر الٹا مزاج پیدا ہو گیا۔ ان کے اندر سہل پسندی (easygoing attitude) کا مزاج پیدا ہو گیا۔ یعنی وہ چھوٹے چھوٹے اعمال پر بڑے بڑے انعام کی امید قائم کرنے لگے، جس کو قرآن میں امانی کہا گیا ہے۔
مزید غور کیجیے، فضائل کی روایتوں میں تساہل کا معاملہ عملاً کس قسم کی روایتوں کے بارے میں آتا ہے۔ وہ اعمال کی داخلی روح کے بارے میں نہیں آتا، بلکہ اعمال کے ظواہر کے بارے میں آتا ہے۔ مثلاً اس طرح کی کتابوں میں جو ابواب ہوتے ہیں، وہ محبت خدا کی فضیلت یا رسول کی فضیلت یا دعوت کے لیے باغ (الشعراء، 26:3) بن جانے کی فضیلت کے بارے میں نہیں ہیں۔
اس کے برعکس، فضائل اعمال کی روایتیں معمولی قسم کے اعمال کے بارے میں آتی ہیں۔ مثلاً فلاں وقت نماز پڑھنے کی فضیلت، فلاں دن روزے رکھنے کی فضیلت، فلاں کلمہ اتنی بار پڑھ لینے سے جنت مل جائے گی، وغیرہ۔
☆☆☆☆☆☆☆
اگر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو اس کے بعد وہ ہر لمحہ اس کے درد کو محسوس کرتا رہے گا۔ اسی طرح انسان کو ہر لمحہ خدا کی کسی نہ کسی رحمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ صبح و شام کا کوئی لمحہ بھی ان تجربوں سے خالی نہیں ہوتا۔ جس آدمی کو خدا کی شعوری معرفت حاصل ہو جائے، وہ ہر لمحہ ان ربانی تجربات کو محسوس کرتا رہے گا۔ یہ تجربہ ہر لمحہ خدا کی یاد میں ڈھلنے لگے گا۔ خدا کی اسی دوامی یاد کا نام ذکرِ کثیر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues