ایک لفظ کا فرق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۷
انگلش کتاب’’ان سرچ آف گاڈ‘‘۔ اس کے بعد 22 جولائی 2018 کو ڈاکٹر محمد اسلم خان نے اپنی فیملی کے ساتھ بنگلور کا سفر کیا۔ اس سفر میں انھوں نے بنگلورسی پی ایس ٹیم کے ساتھ دعوتی ملاقات کی۔ اس وقت مس سارہ فاطمہ اور مولانا عنایت عمری کے زیر انتظام بنگلور اور سہارنپور ٹیم نے دعوہ اکسپرینس شیئرنگ کے لئے ایک میٹنگ بنگلور میں منعقد کی گئی۔ ڈاکٹر محمد اسلم خان نے اجتماع کو خطاب کیا اور سوالات کے جواب دئے۔ • 23 جولائی 2018 کو دی پالیسی ٹائم نے صدر اسلامی مرکز کا اسلام، امن اور ہندوستانی مسلمانوں پر ایک اہم انٹرویو لیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اسلام کی پر امن تعلیمات کو واضح کیا۔ ساتھ ہی ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بتایا کہ اب تعلیم اور امن پسندی کی طرف ان کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کا معیار زندگی پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے مستقبل کے تعلق سے کسی طرح کا اندیشہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ • ملیشیا کی موجودہ حکمراں جماعت کےٹریزرر مسٹر ہو سم موسی(Husam Musa) صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کے لئے 23 جولائی 2018 کو اسلامی مرکز کی آفس نظام الدین ویسٹ آئے۔ ان سے عالمی مسائل اور امن کے تعلق سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ آخر میں ان کو صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا، نیز ملیشیا کے موجودہ وزیر اعظم ماثر بن محمد کے لئے صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ انھیں دیا گیا۔ • ڈاکٹر رفیق انجم نے حال ہی میں اسلامک اسٹڈیز میں اپنی پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف کشمیر (سری نگر) سے پروفیسر نسیم احمد شا کی زیر نگرانی مکمل کی ہے۔ ان کی ریسرچ کا ’’ریلیجس تھاٹ آف مولانا وحید الدین خان۔ این اینالینڈیکل اسٹڈی‘‘ تھا۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کے نظریات اور ان کے مشن کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے، نیز موجودہ حالات میں دوسرے علماء اور اسکالرس کے مقابل صدر اسلامی مرکز کے نظریات کے ریلیونس پر روشنی ڈالی ہے۔
• ذیل میں پاکستان میں موجود الرسالہ قارئین کے تاثرات نقل کیے جا رہے ہیں:
◁ مجھے بہت غصہ آتا تھا۔ اکثر مایوس بھی ہو جاتا تھا۔ 2012 میں مولانا کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا۔ اس سے مجھے زندگی بسر کرنے کا ایک نیا ولولہ ملا۔ خصوصاً فلسفہ اعراض(avoidance) نے مجھے کئی بار غلط فیصلوں سے بچایا ہے۔ وقت کی قدر بھی مجھے مولانا کی تصانیف سے حاصل ہوئی۔ (فضل الرحمن، لاہور) ◁ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا صاحب کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے جو تاثیر رکھی ہے وہ اب بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے، مولانا صاحب کی ہر بات سائنس اور تجربے کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے، ہر بات انسان کے احساسات اور جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوتی ہے، جس سے سننے والے پر گہرا اثر پڑتا ہے اور مثبت تحریک ملتی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا صاحب کو ہمیشہ صحت مند اور توانا رکھے آمین۔ (محمد فرحان، کراچی) ◁ مولانا صاحب کی تحریروں کا اثر ہے کہ اب میں عام طور پر بولنے سے پہلے سوچتا ہوں کہ کیا بولنا چاہیے، اور کتنا بولنا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues