ایک لفظ کا فرق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۸
ہے ۔ ( ندیم خان ، کراچی )
مولانا کی تحریروں نے میری زندگی میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں : (1) وقت کو پہچان کر درست وقت پر درست اقدام کرنا ۔ وقت کی حقیقت ۔ وقت کی طاقت ۔ لہٰذا میں ہر طرح کے وقت کا شکر گزار بنتا جا رہا ہوں ۔ (2) کائنات میں موجود اشیاء کی قیمت کا اندازہ ہونا شروع ہو گیا ہے ۔ اب میں زیادہ قیمت کی چیز کی قیمت کم اور کم کی زیادہ قیمت نہیں لگاتا ۔ (3) سب سے بڑھ کر یہ سیکھا کہ صبر سب سے بڑی تحریک ہے ۔ جزاک اللہ ۔ (عادل درانی ، ہری پور)
مولانا صاحب سے میں نے یہ سیکھا کہ صبر بزدلی کا نام نہیں، صبر بہادری کا نام ہے، صبر ایک ایسی طاقت ہے جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔ (ابوبکر ، فیصل آباد)
مولانا سے تعارف کا میرا رشتہ زیادہ پرانا نہیں ہے، بلکہ وہ تقریباً تین سالوں پہ محیط ہے، اور اس وقت میری لائبریری میں مولانا کی تقریباً بیس کتابیں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک اہم کتاب رازِ حیات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے کئی موٹیویشنل (motivational) بکس کا مطالعہ کیا اور تقاریر بھی سنیں، مگر مولانا کا کام بے مثل ہے۔ اس کتاب سے میرے اندر نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس کتاب سے ایک سبق جو مجھے ملا ہے، وہ یہ ہے کہ تصادم کی فضا کو چھوڑ کر عمل اور امن کی راہ اختیار کرنا ہے۔ اس کتاب کو ایک بار مکمل پڑھ لینے کے باوجود اسے روزانہ پڑھنا میرا معمول ہے۔ اب تک تقریباً سو سے زائد لوگوں کو اس کتاب کے پڑھنے پر آمادہ کر چکا ہوں ۔ (عثمان غنی رعد ، اردو ڈیپارٹمنٹ ، نمل ، اسلام آباد)
پاکستان میں الیکشن سے پہلے میں سیاسی مباحثوں میں پڑ گیا تھا۔ ان مناظروں کے دوران میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر منفی توانائیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اُن دنوں میں بہت ڈپریس رہا، اور اس کے اثرات الیکشن کے بعد بھی میرے ذہن پر نقش تھے ۔ اب دوبارہ میں نے مولانا کی تحریریں پڑھنا شروع کر دی ہیں ، اور میں واضح طور سے محسوس کر رہا ہوں کے میرے وجود اور میرے رویے سے مثبت توانائیاں پھر سے خارج ہونا شروع ہو گئیں ہیں ۔ (محمد نوید ، کے پی کے )
مجھے مولانا سے صحیح فہم دین ملا، اور عملی طور پر میرا کردار تعمیر ہوا، شخصیت سازی ہوئی ۔ سوچنے، غور کرنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی ۔ یوں سمجھیے کہ مثبت و تعمیری سوچ پیدا ہوئی ۔ ان سے میں نے صبر سیکھا، اور شکر سیکھ رہے ہیں۔ معرفتِ خداوندی عطا ہوئی ۔ خود آگہی ہوئی، اپنے آپ کی پہچان عطا ہوئی ۔ دنیا پرستی سے گریز اور آخرت پرستی کے شوق نے جنم لیا۔ ذوق مطالعہ پیدا ہوا۔ بہت سی چیزوں کے نئے مفہوم کا ادراک حاصل ہوا۔ بس تجربات اتنے زیادہ ہوئے کہ چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کبھی کہیں کوئی نشست جمی اور بیان کا موقع ملا تو ضرور اظہارِ خیال کروں گا ۔ ( خواجہ مظہر نواز صدیقی کالم نگار روزنامہ نوائے وقت ملتان )
‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues