Al-Risala · February 2018 · page 46

ذہنی سکون

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۶

خبرنامہ اسلامی مرکز - 257

قرآن کی عالمی اشاعت : سی پی ایس انٹرنیشنل کی یہ کوشش ہے کہ قرآن کے ترجمے اور دعوہ لٹریچر ہر زبان میں شائع کیے جائیں۔ تا کہ ہر انسان تک خدا کی بات اس کی قابل فہم زبان میں پہنچ سکے۔ اس کوشش کے نتیجہ میں ہندوستان کی علاقائی زبانوں اور بین الاقوامی زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع ہو رہے ہیں۔ جن نیشنل زبانوں میں قرآن کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں وہ یہ ہیں: ہندی (اردو داں طبقہ کے لیے)، ہندی (ہندی داں طبقہ کے لیے)، کنڑ، گجراتی، پنجابی، تیلگو، ملیالم، تامل، اردو، اور بنگلہ (طباعت کے مرحلہ میں)۔ نیز جن بین الاقوامی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: انگلش، فرنچ، جرمن، ڈچ، اٹالین، اسپینش، رشین، پرتگیز، چائنیز، پولش اور نابینا لوگوں کے لیے بریل ترجمہ۔ خواہشمند حضرات، جو قرآن کے عالمی اشاعت کا حصہ بننا چاہتے ہیں، وہ گڈ ورڈ بکس، یا سی پی ایس انٹرنیشنل (ای میل: info@cpsglobal.org) سے رابطہ کریں۔

ایک خط: السلام علیکم، میرا نام زبیر ہے، میں افغانستان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے بڑے بھائی، مولانا عبدالغفور پیروز کو دہشت گردوں نے مار ڈالا۔ انھوں نے صدر اسلامی مرکز کی تفسیر تذکیر القرآن کا مقامی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ تفسیر ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہے۔ مرحوم مولانا نے اللہ اکبر کا بھی ترجمہ کیا تھا، اور وہ مطبوع ہے۔ تفسیر بہت ضخیم ہے۔ آپ اسے چھاپیں اور ہمارے پاس بھیج دیں۔ ہمارے ایک ساتھی جلال الرحمن شرر کچھ عرصہ پہلے مولانا صاحب سے مل چکے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کی پشتوزبان میں ترجمہ شدہ کچھ کتابیں بھی انھوں نے آپ لوگوں کو دی تھیں، جن میں ایک امن عالم کا پشتوترجمہ بھی ہے۔ میں کابل میں رہتا ہوں۔ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسلام کے صحیح پیغام کو افغانستان میں پھیلانے کی توفیق دے۔ آمین ایک تجربہ: میرے گھر کے ایک فرد کو کینسر کی بیماری کے آخری درجہ میں ناگپور کے Snehanchal Palliative Care Centre میں داخل کیا گیا۔ میں نے وہاں یہ دیکھا کہ کس طرح اس دواخانہ میں مریضوں کی خدمت آخری حد تک کی جاتی ہے۔ انھیں ہمت دی جاتی ہے۔ وہ انہیں ہر طرح سے مثبت طریقے سے سوچنے کے قابل بناتے ہیں، اور دن میں دو بار سارے مریضوں کے لئے اجتماعی Prayer کی جاتی ہے جس میں خدائے واحد سے سب کے لئے خیر کی دعائیں کی جاتی ہیں۔ میں نے سوچا نہیں CPS کا لٹریچر دینا چاہيے۔ جسے ان لوگوں نے بہت خوشی سے قبول کیا۔ ادارہ کے ڈائرکٹر مسٹر نوین دیشپانڈے صاحب سے تفصیلی بات ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ یہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں سوچنا کہ یہ کام آپ لوگ کر رہے ہو۔ ہم بھی اپنے کام کے بارے میں ایسا نہیں سوچتے۔ بلکہ یہ سارے خیر کے کام ہمارا خدا کر رہا ہے۔ اپنی خصوصی مدد کے ساتھ وہ ہمیں اس کام کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ یہی ہماری خوش نصیبی ہے۔ ایک اور خاص بات انھوں نے مولانا صاحب کی کتاب، موت کی یاد کا مراٹھی ترجمہ دیکھ کر کہا کہ اس کتاب کو یہاں کے ہر مریض کو دے دیا جائے، یہ سب کے کام کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page