Al-Risala · April 2019 · page 8

میں خدا کو پانا چاہتا ہوں

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۹، صفحہ ۸

خوراک ایک معجزہ 4 (کات کے برٹش شاعر والٹر ڈی لا میٹر [1873-1956] (Walter de la Mare) کا ایک شعر ۔ وہ کہتا ہے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ مس ٹی (انسان) جو کچھ کھاتا ہے، وہ اس کے اندر داخل ہو کر اس کا جز بن جاتا ہے :

یہ بات بلاشبہ بہت ہی زیادہ عجیب ہے کہ انسان کی خوراک، خواہ وہ زمینی خوراک ہو، یا حیوانی خوراک اس کے پیٹ میں داخل ہوتی ہے۔ ایک بے حد پیچیدہ نظام اس کو ہضم (digest) کرتا ہے۔ انسان کے جسم میں دوسو سے زیادہ قسم کے خلیات (cells) ہیں۔ یہ سیل جسم کے مختلف حصوں کا پارٹ بنتے ہیں۔ یہ سیل برابر بدلتے رہتے ہیں۔ انسان کا جسم انھیں سیل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ وہ پیدائش سے موت تک انسان کے جسم کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ یہ ایک بے حد عجیب قسم کا جسمانی نظام ہے، جو ہر عورت اور مرد کو مفت میں حاصل رہتا ہے۔ اس کے علاوہ انسان کے وجود سے باہر کی پوری دنیا، انسان کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کا کام کرتی ہے۔

انسان کے جسم میں تقریباً اسی آرگن ہوتے ہیں، یہ تمام آرگن انتہائی مربوط انداز میں کام کرتے ہیں۔ اس طرح انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے تمام کام انجام دے سکے۔ مزید یہ کہ یہ تمام آرگن خود کار مشین کی طرح کام کرتے ہیں۔ انسان کے ارادے کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں، جو انسان کے جسم میں ہر وقت متحرک رہتی ہیں۔ تب انسان اس قابل بنتا ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال انجام دے سکے۔ انسان اگر اپنے وجود کے اس فطری انتظام کو لے کر سوچے تو وہ شکر کے سمندر میں غرق ہو جائے، ناشکری کا کلمہ کبھی اس کی زبان سے نہ نکلے۔ واریزے تدور میں تارجات ہوں، یہ معاملہ اس کی رہائی کا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2019 All issues

Printed page