Al-Risala · January 2019 · page 27

روحانی ارتقا

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷

انسان کا یہی احساس جنت کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ انسان سب بڑی چیز جو چاہتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایکسپرس کر سکے۔ مگر انسان اس میدان میں جتنا زیادہ کوشش کرتا ہے، اتنا ہی اس کا یقین بڑھتا چلا جاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنے آپ کو ایکسپرس (express) کرنے پر قادر نہیں۔ یہ گویا اس دنیا میں جنت کا ایک سراغ (clue) ہے۔ آدمی اگر اس سراغ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے تو وہ یقیناً جنت کی دریافت تک پہنچ جائے گا۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَمِنْ کُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51: 49)۔ یعنی اور ہم نے ہر چیز کو جوڑا جوڑا بنایا ہے تا کہ تم غور وفکر کرو۔ تخلیق کا یہ پہلو گویا جنت کا ایک یقینی سراغ ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے انسان اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ موجودہ دنیا کے بعد یقیناً ایک اور دنیا ہے، اسی دوسری دنیا کو جنت کہا گیا ہے۔ جنت انسان کا ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جنت موجودہ دنیا کی کمی کی تکمیل ہے۔ جنت میں وہ تمام اسباب اپنی اعلیٰ ترین شکل میں موجود ہوں گے، جہاں انسان اپنی خواہشات کو پالے : وَلَكُمْ فِیهَا مَا تَشْتَهِی أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِیهَا مَا تَدَّعُونَ (31: یعنی اور تمہارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کا تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ یقیناً انسان کی اس خواہش کی تکمیل بھی وہاں موجود ہوگی، جس کو ہم نے اپنی ہستی کا کامل اظہار کہا ہے۔ جنت میں انسان اپنی ارتقا یافتہ ہستی کے ساتھ داخل ہوگا۔ جنت میں انسان کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ ان حقیقتوں کو دریافت کر سکے، جن کو وہ دنیا کی زندگی میں دریافت کرنے میں ناکام رہا تھا۔ مزید یہ کہ جنت میں انسان کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ اپنی دریافت کردہ باتوں کو الفاظ کی صورت میں بیان کر سکے۔ جنت انسان کے لیے مقامِ راحت بھی ہے اور اس بات کا مقام بھی کہ وہ اپنی اعلیٰ دریافتوں کو بیان کرنے کے لیے اعلیٰ الفاظ پالے۔ جنت انسان کی شخصیت کی تکمیل کا مقام ہے، ہر اعتبار سے تکمیل، ایک ایسی تکمیل جس کے بعد کوئی چیز غیر مکمل حالت میں باقی نہ رہے۔ جنت انسان کے لیے اپنی آرزوؤں کی تکمیل بھی ہے اور اپنے رب کی اعلیٰ دریافت بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page