مجتہدانہ اسلوبِ دعوت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۹
ہندستان (کیرلا) کی ڈاکٹر ثریا وغیرہ۔
میرے مطالعے کے مطابق، موجودہ زمانے کے خود مسلم داعیوں اور رہنماؤں کا حال بھی تقریباً یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں جتنے بھی عرب یا غیر عرب علماء اور مفکرینِ اسلام کی خدمت کے لیے اٹھے وہ کسی نہ کسی اعتبار سے رَدِ عمل کی نفسیات کے تحت اُٹھے۔ کوئی استعمار کے مسئلے سے بھڑک اُٹھا۔ کوئی صہیونیت کی زمین سے اُبھرا۔ کسی کو مغربی تہذیب کے غلبے نے بے چین کر دیا۔ کوئی ہند و خطرہ یا غیر ہند و خطرہ کے خلاف مجاہد بن گیا۔ کوئی مسلمانوں کی سیاسی مغلوبیت پر بے برداشت ہو کر تحریک چلانے لگا، وغیرہ۔ جب کہ داعی وہ ہے جو ابدی حقائق کی دریافت سے اُبھرے، نہ کہ وقتی مسائل کے ہنگاموں سے۔
دعوت کے مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کے دو مختلف اسلوب ہیں— مقلدانہ اسلوب اور مجتہدانہ اسلوب۔ اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں جو دعوتی کوششیں ہورہی ہیں وہ سب کی سب مقلدانہ اسلوب پر ہورہی ہیں۔ اس قسم کے اسلوب سے صرف تقلیدی مزاج کے لوگ ہی متاثر ہوسکتے ہیں، اور وہی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ جدید طبقہ مجتہدانہ اسلوب چاہتا ہے، مگر مجتہدانہ اسلوب میں دعوتی کام سرے سے نہیں ہورہا ہے، اس لیے جدید طبقہ اسلام کی طرف مائل بھی نہیں ہورہا ہے۔ اس بنا پر اسلامی دعوت اور جدید طبقے کے درمیان ایک قسم کا ذہنی بُعد (intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے۔ دعوتی عمل کو تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان مؤثر بنانے کے لیے اس بُعد (gap) کو ختم کرنا ضروری ہے۔
پچھلے دنوں میری ملاقات بہار کے ایک صاحب ڈاکٹر اکرام الحق سے ہوئی۔ وہ ایم ڈی کی ڈگری لیے ہوئے تھے۔ انھیں اسلامیات کے مطالعہ کا شوق ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے انگریزی اور اردو کی تقریباً تمام تفسیریں پڑھی ہیں مگر مجھے ان تفسیروں سے اطمینان نہیں ہوا۔ اس قسم کا احساس موجودہ زمانے کے اکثر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تفسیریں زیادہ تر تقلیدی اسلوب میں لکھی گئی ہیں۔ میرے علم کے مطابق، حقیقی معنوں میں مجتہدانہ اسلوب میں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues