Al-Risala · January 2019 · page 28

نقل اور عقل

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۸

نقل اور عقل

ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیں: ہیں:سلفی اصول ہے تقدیم النقل على العقل، اس کے مقابلے میں معتزلہ و متکلمین تقدیم العقل علی النقل کرتے ہیں۔ اس معاملے میں آپ کا منہج کیا ہے۔ علامات قیامت کی تشریح کے لیے آپ نے کس منہج کو اختیار کیا ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو) میں اس معاملے میں اصولاً سلفی مسلک کو درست سمجھتا ہوں۔ البتہ اس معاملے میں میرے الفاظ مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی الفاظ کے فرق کے ساتھ میں علمائے سلف کے مسلک کو اصولاً درست مانتا ہوں، اور متکلمین و معتزلہ کا مسلک میرے نزدیک درست مسلک نہیں۔ میرے مطالعے کے مطابق نقل (قرآن اور سنت) کو علم کے اصل ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس معاملے میں جو لوگ عقل کو مقدم قرار دیں، اور نقل کو اس کے تابع کی حیثیت دے دیں، وہ بلاشبہ غلطی پر ہیں۔ تاہم میں ایسے لوگوں کی تکفیر کا قائل نہیں ہوں۔ البتہ میں اس کو ضروری سمجھتا ہوں کہ علمی مباحثہ کے ذریعہ ان کی غلطی کو واضح کیا جائے۔ میرے مطالعے کے مطابق، علوم عقلیہ کی حیثیت تائیدی علم کی ہے، نہ کہ مستقل ماخذ کی حیثیت۔ میں علی وجہ البصیرہ یہ مانتا ہوں کہ نقل میں اور حقیقی عقل میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ تاہم اگر بالفرض دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ پیش آئے تو میں بلا توقف نقل کو ترجیح دوں گا، اور عقل کو چھوڑ دوں گا۔

میں نے کثیر تعداد میں چھوٹی بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ ان تمام کتابوں کا مشترک موضوع ہے اسلام کی تعلیمات کو عصری ذہن کے لیے قابل فہم بنانا۔ میرا یہ کام کسی قسم کی مرعوبیت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ کامل یقین کی بنا پر ہے۔ میں نے اپنے مطالعے میں کبھی ایسی کوئی چیز نہیں پائی جو حقیقی اسلام اور ثابت شدہ عقل کے خلاف ہو۔ نقل سے میری مراد قرآن وسنت کی تعلیمات ہیں۔ بعد کے علما کے بارے میں میرا مسلک وہی ہے جو امام مالک کا مسلک تھا۔ ان کا مشہور قول ہے: کل أحد یؤخذ من قوله ويترك إلا صاحب هذا القبر (سیر اعلام النبلاء، 7/178)۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page