مدعو انتظار میں
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۱
میں نے انہیں اسلام کے نظریۂ جنت سے متعارف کرایا۔ (ماہنامہ الرسالہ، رشی کیش کا سفر ، جنوری 2003)
مدعو انتظار میں
رشی کیش کا یہ سفر میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ وہاں جس ہندو سے بھی اسلام پر گفتگو ہوئی اُس نے دلچسپی کے ساتھ اُس کو سنا۔ کئی لوگوں کو کتابیں دی گئیں جن کو انہوں نے شوق کے ساتھ لیا اور پڑھنے کا وعدہ کیا۔ یہاں مجھے چند بار عمومی خطاب کا موقع ملا۔ اپنے خطابات میں میں نے اسلام کو دین رحمت کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کی۔
میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگ اس کو بہت بُرا مانتے ہیں کہ اُن کے اوپر مذہبی کٹر پن کا الزام آئے۔ اس لیے وہ اپنے مذہب کے سوا دوسرے مذہب کی بات کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں۔ یہ زمانی مزاج ہم کو موقع دیتا ہے کہ ہم دین حق کی دعوت کو موافق ماحول میں پیش کر سکیں ۔ (ماہنامہ الرسالہ، رشی کیش کا سفر، جنوری 2003)
خدا کا مستند پیغام
فروری 1999 میں میں نے ٹریونڈرم (کیرالا) کا سفر کیا تھا۔ 28 فروری 1999ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے میں دہلی ایر پورٹ پہنچا۔ یہ نیا ایر پورٹ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے۔ میں اُس کے اندر کھڑا ہوا تو اُس کی وسعت میرے ذہن میں صحرائے حیات کی وسعت میں تبدیل ہو گئی۔
میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا میں انسان گویا ایک عظیم صحرا میں کھڑا ہوا ہے۔ وہ راز حیات جاننا چاہتا ہے مگر کوئی درخت یا پہاڑ اُس سے نہیں بولتا۔ کوئی ستارہ یا سیارہ اُس سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ اس خاموش دنیا میں وہ حیران کھڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد اس کے سامنے خدا کا پیغمبر آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں خدا کا فرستادہ ہوں اور تم کو خدا کا یہ پیغام دیتا ہوں۔ انسان کے لیے یہ کیسی عجیب راحت ہے۔ عقیدہ کے اعتبار سے یہاں بہت سے پیغمبر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues