تالیف قلب کی ایک مثال
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۳
تعداد میں تعلیم حاصل کریں۔ تاہم صرف کتابیں چھاپنا کافی نہیں ۔ زندگی کی سرگرمیوں میں دونوں کی شرکت ضروری ہے۔ (ماہنامہ الرساله، کیرلا کا سفر، فروری 2003)
تالیف قلب کی ایک مثال
کیرلا کے لوگ (اور اسی طرح پورے جنوبی ہند کے لوگ) بے حد صفائی پسند ہیں۔ صفائی ان کے کلچر میں شامل ہے۔ یہاں کے گھر اور راستے بے حد صاف ہوتے ہیں۔ آپ اگر اچانک کسی گھر یا کسی بستی میں جائیں تو آپ اس کو ہمیشہ صاف ستھرا پائیں گے۔ وہ گھروں کے اندر جوتا پہننا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتا اتار دیا جاتا ہے۔ میں نے یہاں کی ایک مجلس میں اس کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام کی یہ حدیث سنائی: الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 223)۔ اس کا ترجمہ میں نے اس طرح کیا:
Cleanliness is a part of religion.
لوگ اس حدیث کو سن کر بہت خوش ہوئے۔ ان کے چہرے سے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خوش ہورہے ہوں کہ خدا بھی ان کی تائید کر رہا ہے۔ (ماہنامہ الرساله، کیرلا کا سفر، فروری 2003) دعوتی تڑپ آشرَم سے واپسی میں ہم لوگ ڈاکٹر گوپی ناتھ کے مکان میں تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرے۔ اس وقت میری آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ کئی لوگ وہاں موجود تھے۔ لوگ چاہتے تھے کہ میں کچھ کہوں۔ مگر میں جذبات سے اتنا زیادہ مغلوب تھا کہ میں کچھ نہ بول سکا۔ میں سوچ رہا تھا کہ موجودہ زمانہ اتنا زیادہ مختلف زمانہ ہے کہ آج شاید ایک شخص صرف ’مہدی‘ بن سکتا ہے وہ ’ہادی‘ نہیں بن سکتا۔ میرے دل میں انسانیت کی تڑپ طوفان بن کر ہلچل برپا کئے ہوئے تھی۔ مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کے انسان کو کس طرح خدا سے ملایا جائے۔ آج کے انسان کو کس طرح خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔
موجودہ زمانہ میں غیر مسلم تو کیا، مسلمان بھی سچائی سے آخری حد تک دور ہیں۔ ہر آدمی مادیات
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues