جدید دنیا میں دعوتی امکانات
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۲۹
جدید دنیا میں دعوتی امکانات
حیدر آباد کے اس سفر میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے انہیں انگریزی میں چھپا ہوا ایک انویٹیشن دکھایا۔ اس میں مجھے تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ دعوت نامہ دی انلا ٹیٹمنٹ فاؤنڈیشن (The Enlightenment Foundation) کی طرف سے تھا۔
اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ میں کون ہوں (Who Am I) میں نے کہا کہ اس طرح کے ادارے بڑی تعداد میں تقریباً ہر شہر میں قائم ہیں۔ اس میں شرکت کرنے والوں کو پوری آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر سے زیر بحث موضوع پر بولے، اور اپنے علم کے مطابق ، سوال کا جواب دے۔ اس طرح گویا ہر شہر میں ایک قسم کا دعوتی میدان کھلا ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان وہاں جا کر آزادانہ طور پر اپنی بات پیش کر سکتے ہیں، بشر طیکہ اُن کا انداز خالص علمی ہو۔ مناظرہ کا انداز، سیاسی پروپیگنڈے کا انداز یا قومی وکالت کا انداز نہ ہو۔ اس امکان کو اگر استعمال کیا جائے تو ہر شہر میں خاموش انداز میں دعوت کا کام شروع ہو جائے گا۔ مگر موجودہ مسلمانوں میں چونکہ دعوتی جذبہ نہیں اس لیے انہوں نے نہ اس جدید امکان کو جانا، اور نہ اُس کو استعمال کیا۔
دعوت سے غفلت
میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آ رہے ہیں وہ سادہ طور پر صرف مسائل نہیں ہیں۔ وہ خدا کی تنبیہہ (warning) ہیں ۔ یہ مسائل مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر یاد دلا رہے ہیں کہ تم اگر تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا کرو۔ یہ حقیقت میں نے قرآن سے اخذ کی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے، اہل ایمان کے لیے عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں ہے (المائدہ، 5:67)۔
موجودہ زمانہ کے مسلمان نہایت جوش و خروش کے ساتھ تحفظ ختم نبوت کی تحریک چلاتے ہیں ۔ مگر اس قسم کی تحریکیں مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری تو خود اللہ نے لے رکھی ہے پھر مسلمان اس میں کیا رول ادا کر سکتے ہیں ۔ اس قسم کی تحریک اتنا ہی بے معنی ہے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues