دعوت سے غفلت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۳۰
جتنا کہ شمس و قمر کے تحفظ کی تحریک چلانا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نبوت کا تحفظ نہیں ہے بلکہ ختم نبوت کی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ ختم نبوت کے بعد وہ مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام کریں جو پہلے پیغمبر کے ذریعہ انجام پاتا تھا: لِّيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (22:78)۔ یعنی تا کہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ قرآن اور حدیث اور سیرت کا میں نے جو گہرا مطالعہ کیا ہے اس کی بنیاد پر میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امت محمدی صرف نماز روزہ کی ادائیگی سے خدا کے یہاں بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ خود ساختہ نظریات کے تحت موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد اور اسلامی سیاست کے جو ہنگامے مسلم دنیا میں جاری ہیں وہ بھی ہر گز اس کی نجات کا ضامن نہیں بن سکتے۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو مسلسل انجام دیں۔ دعوتی فرض کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہے۔ اور جب اصل حیثیت ہی مشتبہ ہو تو انعامات کس بنیاد پر دیے جائیں گے۔ خواص میں دعوت انگریزی میگزین انڈیا ٹوڈے (2 دسمبر 2002) دیکھا۔ اُس کے صفحہ 67-66 پر برطانی جرنلسٹ سر مارک ٹلی (Mark Tully) کی تازہ کتاب پر تبصرہ شائع ہوا تھا۔ 302 صفحہ کی یہ کتاب پینگون بکس نے چھاپی ہے۔ کتاب کا نام یہ ہے:
India in Slow Motion (2002)
اس کتاب میں انٹروڈکشن کے علاوہ گیارہ ابواب ہیں۔ اس کا پہلا باب رام کی نئی دریافت (The Reinvention of Ram) کے بارے میں ہے اور آخری باب کا عنوان ہے، گم شدہ جنت (Paradise Lost)۔ کتاب کا ایک باب صوفیوں اور اُن کے عقائد کے بارے میں ہے۔ اس باب کا عنوان یہ ہے: The Sufis and a Plain Faith
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues