دعوت سے غفلت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۳۱
اس کتاب کی ترتیب کے دوران سْر مارک ٹلی نے راقم الحروف کا دوبارہ انٹرویو لیا۔ کتاب کے مذکورہ باب میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ میرے خیالات کا ذکر کیا ہے جو کتاب کے صفحہ 156 سے لے کر 161 تک موجود ہے۔
سر مارک ٹلی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اُن کو یہ خیال ہوا کہ وہ اپنی کتاب میں اسلامی تصوف (Sofi Faith) پر ایک باب شامل کریں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ تبلیغی جماعت کے مرکز میں جا کر موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ مگر وہ لوگ اس سلسلہ میں انتہائی حد تک غیر معاون (unhelpful) ثابت ہوئے۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ بتانے سے بھی انکار کر دیا کہ دوسرا کون مسلمان اس معاملہ میں ان کے لیے مددگار ہو سکتا ہے۔ (صفحہ 155) سر مارک ٹلی نے لکھا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کوشش کیجیے تا کہ تبلیغ کا کوئی آدمی مل جائے جس سے میں تبلیغ کے بارے میں معلومات لے سکوں۔ ان کے کہنے پر میں نے کوشش کی لیکن مجھے کامیابی نہ ہو سکی۔ میں نے ان کو ٹیلی فون کیا اور اس سلسلہ میں معذوری ظاہر کی۔ اس کی رپورٹ سر مارک ٹلی نے ان الفاظ میں لکھی ہے:
(Maulana) agreed but a few days later rang me back to confess failure. ‘These people are not living in this century’, he said. ‘They don't know what the media is.’ (p. 161)
اس کے بعد وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے صوفی ازم پر تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کے چند جملے یہ ہیں:
Maulana Wahiduddin Khan proved far more approachable. When we rang him he willingly agreed to see us both, and there was no question of Gilly (my wife) not being welcome. (P. 156)
موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین نے تقریباً مشترک طور پر یہ غلطی کی ہے کہ انہوں نے عوام کو اپنی کوششوں کا نشانہ بنایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی نمائندگی صرف عوام کی سطح پر ہوسکی۔ جہاں تک خواص کا تعلق ہے، وہ اسلام سے تقریباً بے بہرہ ہو کر رہ گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues