دعوت سے غفلت
الرسالہ، جون ۲۰۱۹، صفحہ ۳۲
می رہا نہ خفاتر بیچ کہا نہ کر سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص ( تعلیمِ افقاط ۳ )
میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے خواص (تعلیم یافتہ طبقہ) میں اسلام کا پیغام انتہائی حد تک قابل قبول بن چکا ہے، بشرطیکہ اس طبقہ کے سامنے اسلام کو اُس کی قابلِ فہم زبان میں پیش کیا جائے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین لسانِ قوم میں بولنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس معاملہ میں اُن کی بے خبری کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اکبر الہ آبادی جیسے ایک شاعر کو لسان العصر کا خطاب دے دیا۔ حالاں کہ اکبر الہ آبادی نہ تو عصر کو جانتے تھے، اور نہ اُن کی زبان لسان العصر کا مصداق تھی۔
خواص انتظار میں سے سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد کسی زنگ اس سلسلے کا ایک سبق آموز ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میں نے انگریزی اخبار کے لیے ایک مضمون تیار کیا۔ یہ مضمون واضح طور پر موجودہ زمانہ کے ہندو گروؤں اور سوامیوں کے خلاف تھا۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا:
The Role of Spirituality in De-stressing the Human Mind. آج کل ہند و سوامی اور ہندو گرو ملک میں اور ساری دنیا میں بہت بڑے بڑے آشرم چلا رہے ہیں۔ یہاں میڈی ٹیشن کی مخصوص تکنیک کے ذریعہ لوگوں کے ذہنی تناؤ کو دور کیا جاتا ہے۔ میرا مضمون اس کے سراسر خلاف تھا۔ انگریزی اخبار کے دفتر میں جب میرا مضمون پہنچا تو وہاں کے ذمہ داروں کے درمیان اس پر بحث ہوئی۔ ایک ہندو صحافی نے کہا کہ یہ مضمون تو ہماری بنیاد کو ڈھا رہا ہے۔ دوسرے ہندو صحافیوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس سے بحث نہیں۔ یہ مضمون سائنسی اور منطقی دلائل سے بھر پور ہے۔ اس لیے ہم اُس کو اپنے اخبار میں چھاپیں گے۔ چنانچہ یہ مضمون بعینہ دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز (31 دسمبر 2002) میں چھپا تھا۔
سچائی اور کنفیوژن احمد آباد کے سفر ( جنوری 2003) میں، ایک صاحب سے بات کر تے ہوتے ہیں نے کہا احمد آباد کے سفر (جنوری 2003) میں ایک صاحب سے بات کرنے ہوئے کے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد دیکھے جو بے حد شریف تھے۔ وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کے ( ) میں ہے، پس رندوں میں ہی رہے، (روایت بدلی ہے)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2019 All issues