Al-Risala · August 2019 · page 12

دعوت کے کام میں استقامت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۲

اسلامی دعوت The Need for Re-orientation in Islamic Da‘wah پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دعوت الی اللہ (اسلامی دعوت) تھا۔ آپ نے یہ کام 610ء میں مکہ میں شروع کیا۔ اُس وقت آپ اس مشن میں تنہا تھے، پھر دھیرے دھیرے لوگ اسلام قبول کرتے رہے۔ اور آپ کے ساتھیوں کی تعداد بڑھتی رہی۔ ابتدائی تیرہ سال تک اسلامی دعوت کا کام اسی طرح چلتا رہا۔ اُس وقت سارا فوکس اسلام کی بیسک آئیڈیالوجی پر تھا، یعنی توحید اور آخرت۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ مکی دور کے آخر میں وہاں کے مشرک سرداروں نے محسوس کیا کہ اسلام کی تحریک اُن کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ اب انھوں نے سختی کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں پر تشدد کرنے لگے، یہاں تک کہ انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر ڈالیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ضروری تیاریاں کرنے لگے۔ اُس وقت، پیغمبر اسلام کے ساتھیوں میں جوابی مقابلے کا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے چاہا کہ اپنی طاقت کو مجتمع کر کے وہ مشرکین سے لڑیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر لوگوں کو خاموش کر دیا کہ تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (اصبروا فإنّي لم أومر بالقتال ) المواهب اللدنية بالمنح المحمدیةجلد 1 ، صفحہ 199۔

اگر آپ کار پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سفر کریں تو درمیان میں بار بار دوسرے مقامات کو جانے والے راستے آتے ہیں۔ آپ ان راستوں کی طرف نہیں جاتے، بلکہ اپنی گاڑی کو سیدھے رخ پر چلاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ آپ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہی معاملہ اسلامی تحریک کا ہے۔ اسلامی تحریک کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ ہے، مگر تحریک جب عملاً جاری ہوتی ہے تو سفر کے دوران بار بار موڑ کے مقامات آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ضروری ہوتا ہے کہ تحریک کو کسی اور طرف مڑنے سے بچایا جائے، اور اُس کا سفر دعوت الی اللہ کی منزل کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page