دعوت کے کام میں استقامت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۳
طرف جاری رکھا جائے۔
مکی دور کے آخر میں اس قسم کی ایک صورت حال پیش آئی۔ اُس وقت اگر ایسا ہوتا کہ اہلِ ایمان کی جماعت، مشرکین کی جماعت کے ساتھ متشددانہ ٹکراؤ شروع کر دے تو اس کا مطلب یہ تھا کہ اسلامی تحریک، دعوت الی اللہ کی صراطِ مستقیم سے ہٹ کر قتال کی جانب مڑ گئی۔ ایسا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ مشرک سردار اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔
یہ وقت، دعوت کی سمت سفر کی دوبارہ تصحیح (re-orientation) کا تھا۔ اُس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ ہجرت کیا تھی، وہ فرار (flight) یا پسپائی نہ تھی، ہجرت دراصل ایک تدبیر تھی، جس کے ذریعے پیغمبر اسلام نے اسلامی دعوت کو متشددانہ ٹکراؤ کی طرف مڑنے سے بچایا۔ اس تدبیر سے آپ کو یہ موقع مل گیا کہ دعوت الی اللہ کا جو کام آپ مکہ میں کر رہے تھے، اس کو آپ مدینہ میں جاری رکھیں۔ ہجرت اپنی حقیقت کے اعتبار سے مقامِ عمل کی تبدیلی تھی، نہ کہ سادہ طور پر ترکِ وطن۔ اس تدبیر کا غیر معمولی فائدہ ہوا۔ چنانچہ اسلام تیزی سے مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں پھیلنے لگا۔
مگر مکہ کے مشرک سرداروں کو یہ بات پسند نہ آئی۔ انھوں نے اسلامی تحریک کو بزورِختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مشرک سردار اُس وقت عرب میں سیاسی لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کو ہر قسم کے ذرائع حاصل تھے۔ ان کو وہ طاقت بھی حاصل تھی، جس کو موجودہ زمانے میں ٹرانس بارڈر ملٹری کیپیبلٹی (trans-border military capability) کہا جاتا ہے، یعنی سرحد کو پار کر کے حملہ کرنے کی صلاحیت۔
اب مکہ کے مشرک سرداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی فوج تیار کریں اور اقدام کر کے مدینہ پر باقاعدہ حملہ شروع کر دیں۔ اس معاملہ کا پہلا بڑا واقعہ وہ تھا، جس کو غزوۂ بدر (2 ہجری) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد غزوۂ اُحد (3 ہجری) کا واقعہ پیش آیا۔ اس طرح جھڑپوں کی صورت میں کئی متشددانہ واقعات پیش آئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues