دعوت کے کام میں استقامت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۴
مشرکین مکہ کے جنگی ارادوں نے دوبارہ اسلامی تحریک کے لیے خطرہ پیدا کر دیا کہ وہ دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹ کر قتال کے راستے کی طرف مڑ جائیں۔ اُس وقت دوبارہ اُس تدبیر کو اختیار کرنے کی ضرورت تھی، جس کو ہم نے ری اورینٹیشن (re-orientation) کہا ہے۔ اب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص تدبیر کے ذریعے مشرکین سے ختم جنگ کا وہ معاہدہ فرمایا، جس کو معاہدۂ حدیبیہ (Hudaybiyah Agreement) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ 6 ہجری میں طویل گفت وشنید کے بعد کیا گیا۔ اس معاہدے میں پیغمبر اسلام نے مشرک سرداروں کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، صرف اس لیے کہ آپ اُنھیں راضی کریں کہ وہ جنگ کا راستہ چھوڑ کر قیامِ امن کے طریقے کو اختیار کر لیں۔ اس معاہدے کا یہ تاریخ ساز فائدہ ہوا کہ اسلامی تحریک جنگی انحراف سے ہٹ کر دعوت الی اللہ کے راستے پر آگئی۔ اس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ نہ صرف عرب میں، بلکہ بیرونِ عرب تک اسلامی دعوت کے کام کو منظم طور پر پھیلا سکیں۔ حدیبیہ ایگری منٹ کی اِسی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اُس کو فتح مبین (الفتح، 48:1) کہا گیا ہے، یعنی کھلی ہوئی فتح۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ حدیبیہ ایگری منٹ فریقِ مخالف کی شرطوں پر کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ اس کے بارے میں صحابہ کی اکثریت کا یہ خیال تھا کہ یہ معاہدہ پسپائی کا معاہدہ ہے۔ اس کے باوجود کیوں قرآن نے اس کو فتح مبین قرار دیا۔
قرآن کا یہ اعلان دراصل فطرت کے اس قانون کا بیان ہے کہ اس دنیا میں ٹکراؤ کے مقام پر پیچھے ہٹنے والے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں شکست پر راضی ہونے والے کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں ہار کا نتیجہ جیت کی صورت میں نکلتا ہے: Success is the outcome of defeat. بدقسمتی سے بعد کی صدیوں میں مسلمان اس پیغمبرانہ حکمت کو بھول گئے۔ حدیبیہ اسپرٹ سے لوگ اتنا زیادہ غافل ہو گئے کہ بعد کی پوری تاریخ میں کوئی بھی شخص نظر نہیں آتا، جو اس عظیم حکمت کو سمجھے اور دوبارہ مسلمانوں کے اندر حدیبیہ اسپرٹ کو زندہ کرنے کی کوشش کرے۔ مزید بدقسمتی یہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues