Al-Risala · August 2019 · page 15

دعوت کے کام میں استقامت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۵

ہے کہ موجودہ زمانے میں بھی بے خبری کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ آج ایسے لوگ تو بہت ملیں گے جو حدیبیہ کی بات کو پسپائی قرار دیں گے، لیکن ایسے لوگ تقریباً معدوم ہیں، جو حدیبیہ کے اندر چھپے ہوئے دعوتی امکانات کو سمجھ سکیں۔ خلافتِ راشدہ کے بعد اسلام، سیاسی عظمت کے دور میں داخل ہو گیا۔ اب اسلام نے ایمپائر کی صورت اختیار کرلی— اُموی ایمپائر، عباسی ایمپائر، فاطمی ایمپائر، اندلسی ایمپائر، مغل ایمپائر، عثمانی ایمپائر، وغیرہ۔ یہ دور تاریخی اعتبار سے عظمت کا دور تھا، لیکن دعوت الی اللہ کے اعتبار سے وہ انحراف (diversion) کا دور بن گیا۔

اب مسلمانوں میں دعوتی ذہن کے بجائے سیاسی ذہن عام ہو گیا۔ اسی سیاسی ذہن کے تحت یہ کہا جانے لگا کہ مسلمان زمین میں خدا کے خلیفہ (vicegerent of God) ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کریں۔ اسی سوچ کے زیر اثر یہ نظریہ پیدا ہوا کہ مسلم ممالک ’دار الاسلام‘ ہیں اور غیر مسلم ممالک ’دار الحرب‘ یا ’دار الکفر‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نظریے کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے بجائے حریف اور رقیب کے روپ میں دیکھنے لگے۔ مسلمان عمومی طور پر دعوت الی اللہ کے طریقے سے ہٹ کر سیاسی اقتدار کے منحرف راستے پر چلنے لگے۔ ان بعد کی صدیوں میں اگرچہ عمومی سطح پر مسلمانوں کا ذہن یہی تھا، لیکن جزئی طور پر مسلمانوں کے اندر ایسے گروہ اٹھتے رہے، جو غیر سیاسی میدان میں اسلام کو آگے بڑھاتے رہے۔ مثال کے طور پر محدثین نے سیاسی سرگرمیوں کو چھوڑ کر اپنے آپ کو حدیثِ رسول کی خدمت میں لگایا۔ صوفیا نے حکمرانوں سے دوری اختیار کر کے روحانی ارتقا کا کام کیا، جس کا فائدہ دعوت الی اللہ کے اعتبار سے بھی ظاہر ہوا۔ اسی طرح ایسے علما پیدا ہوتے رہے جنھوں نے سیاسی جہاد سے الگ رہ کر مسجد اور مدرسے جیسے ادارے سنبھال لیے، اور اُن کے ذریعے بالواسطہ طور پر دعوت کی اسپرٹ زندہ رکھی۔ اسی قسم کی غیر سیاسی شخصیتوں کا ایک بڑا کارنامہ وہ ہے، جو تیرھویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ تاتاری قبائل بعض وجوہ سے مسلمانوں کے مخالف بن گئے۔ انھوں نے ایک بڑا لشکر تیار کر کے عباسی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے سمرقند سے لے کر بغداد اور حلب تک، مسلم علاقے کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page