Al-Risala · August 2019 · page 16

دعوت کے کام میں استقامت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۶

زبردست نقصان پہنچایا۔ انھوں نے ہلاکو خان کے زیر قیادت 1258ء میں عباسی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن اس کے بعد یہ ہوا کہ ان تاتاری فاتحین نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ واقعہ اتنا حیرت انگیز تھا کہ مورخین نے اس کا مندرجہ ذیل قسم کے الفاظ میں اعتراف کیا:

The conquerors have accepted the religion of the conquered. (T.W. Arnold, The Preaching of Islam, London, 1913, p. 2)

The religion of the Muslims had conquered, where their arms had failed. (P.K. Hitti, History of the Arabs, London, 1989, p. 488)

انیسویں صدی عیسوی میں اسلام کی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوتی ہے۔ اب ایسا ہوا کہ مغربی قو میں جدید سائنس اور جدید ٹکنالوجی سے مسلح ہو کر مسلم علاقوں میں داخل ہو گئیں۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے مسلم ملکوں پر براہ راست یا بالواسطہ قبضہ کر لیا۔ اس دور کو نو آبادیاتی دور (colonial period) کہا جاتا ہے۔ اس دور میں دعوت الی اللہ کے نقطہ نظر سے سب سے بڑا انحراف پیدا ہوا۔ اب تمام دنیا کے مسلمان منفی ردعمل کا شکار ہو گئے۔ ہر جگہ ایسے مسلم لیڈر اٹھے، جو مغربی قوموں کو اسلام کا دشمن بتا کر ان کے خلاف فکری یا عملی لڑائی لڑنے لگے۔ نو آبادیاتی دور ایک اعتبار سے گلوبل انٹریکشن (global interaction) کا دور تھا۔ جدید کمیونی کیشن کی بنا پر ایسا ہوا کہ ساری دنیا میں لوگوں کی آمد و رفت بڑے پیمانے پر ہونے لگی۔ اس دوران قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ مغربی قوموں کا انٹرایکشن مسلمانوں سے ہونے لگا۔ ایک نیا عملی شعبہ استشر اق (orientalism) پیدا ہوا جس کے تحت، مغربی علماء بڑے پیمانے پر اسلامی مضامین کا مطالعہ کرنے لگے۔

اسلام ایک فطری مذہب ہے، وہ انسان کی فطرت کو اپیل کرتا ہے، وہ ہر متلاشی حق (seeker) کے لیے، اُس کی اپنی تلاش کا جواب ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام خود اپنے زور پر لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں داخل ہونے لگا۔ مغرب کے سنجیدہ افراد اپنے آپ اسلام قبول کرنے لگے۔ مثلاً برطانیہ میں لارڈ ہیڈلے فاروق، ہنگری میں ڈاکٹر عبد الکریم جُرمانوس، آسٹریا میں ڈاکٹر لیوپولڈ اسد،

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page