I will certainly cause them all to deviate.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۷
وغیرہ۔ تاہم یہ دعوتی عمل (da'wah process) زیادہ بڑے پیمانے پر جاری نہ ہوسکا۔ کیوں کہ زیادہ بڑے پیمانے پر دعوتی عمل جاری ہونے کے لیے ضرورت ہے کہ مسلمان براہ راست دعوتی سرگرمیاں انجام دیں۔ مگر ابلیس نے اپنی تزئین کے ذریعے مسلمانوں کو غیر دعوتی کاموں کی طرف متوجہ کر دیا۔ اس بنا پر دعوتی عمل مسلمانوں کی مین اسٹریم (mainstream) میں داخل نہ ہوسکا۔ ابلیس یا شیطان یہ کام کس طرح کرتا ہے، اس کا جواب قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا کے حکم کے باوجود جب ابلیس، آدم (انسانِ اوّل) کے سامنے نہیں جھکا، تو خدا نے ابلیس کو ملعون قرار دیا۔ اس پر غصہ ہو کر ابلیس نے کہا کہ میں انسان کو تیرے راستے سے بھٹکاؤں گا میں ان کی اکثریت کو تیری رحمت سے دور کر دوں گا (لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ) الحجر ، 15:39۔ اس آیت میں 'اغوائ' کا لفظ ہے۔ اغوا کے لفظی معنی ہیں سیدھے راستے سے بھٹکانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابلیس کے لیے جہنم مقدر ہو گئی، اس لیے انتقامی جذبے کے تحت اس نے کہا کہ میں تمام انسانوں کو تیرے راستے سے منحرف کر دوں گا:
I will certainly cause them all to deviate.
ابلیس کے پاس انسان کو بھٹکانے کے لیے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ وہ ہے جو خاص طور پر اہل ایمان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اہلِ ایمان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد داعی الی اللہ کے حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ حیثیت بیک وقت دو اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ ایک، یہ کہ اگر دعوت الی اللہ کا کام رک جائے تو عام انسانوں کے لیے جنت کی طرف رہنمائی کا عمل ختم ہو جائے گا۔ دوسرے، یہ کہ دعوتی عمل چھوڑنے کی صورت میں خود اہلِ ایمان اپنی اہم ترین حیثیت کھو دیں گے۔ اس لیے اہلِ ایمان کے سلسلے میں ابلیس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اُنھیں دعوت الی اللہ کے کام سے غافل کر دے۔
ابلیس یہ کام کس طرح کرتا ہے، اُس کا جواب 'اغوا' کے لفظ میں موجود ہے، جس کو ابلیس نے اپنے چیلنج کے وقت استعمال کیا تھا۔ اغوا کا لفظی مطلب انحراف (deviation) ہے۔ اس سے یہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues