Al-Risala · August 2019 · page 18

I will certainly cause them all to deviate.

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں ابلیس کا طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ توجہ کو پھیرنا (distraction) ہے۔ اس کوشش میں اُس کا انحصار تزئین پر ہوتا ہے، یعنی دعوت کے سوا کسی اور چیز کو مزین کرکے یہ کوشش کرنا کہ لوگ دعوتی راستے کو چھوڑ کر کسی اور راستے کی طرف سرگرم ہو جائیں۔ دعوتی کام کی اہمیت کو گھٹانا، اور غیر دعوتی کام کی اہمیت کو بڑھانا، یہ اس معاملے میں ابلیس کا خاص حربہ ہے، جس کو وہ ہر زمانے کے مسلمانوں کے اوپر استعمال کرتا ہے۔

دوسری عالمی جنگ نے نو آبادیاتی طاقتوں کو اتنا کم زور کر دیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ میں اپنے سیاسی قبضے کو باقی رکھنے کے قابل نہ رہے۔ چنانچہ دھیرے دھیرے نو آبادیاتی دور کا خاتمہ ہو گیا۔ نو آبادیاتی دور نے مغل سلطنت اور عثمانی سلطنت کا خاتمہ کیا تھا، اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے اندر مغربی قوموں کے خلاف منفی ذہن پیدا ہو گیا۔ سیاسی ایمپائر کو کھونے کا غم مسلمانوں کے ذہن میں اتنی قوت سے بیٹھ گیا تھا کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ نو آبادیاتی دور کے خاتمے نے اُن کو نئی سیاسی زندگی دے دی ہے۔

پہلے اگر مسلمانوں کے خیال کے مطابق، انھوں نے اپنے پولیٹیکل ایمپائر کو کھویا تھا تو اب قومی ریاستوں (nation states) کی صورت میں اُس کو دوبارہ انھوں نے مزید اضافے کے ساتھ حاصل کر لیا ہے۔ چنانچہ اب زمین کے مختلف حصوں میں 57 مسلم ریاستیں قائم ہیں۔ ان مختلف ریاستوں کو آج جو ذرائع حاصل ہیں، وہ قدیم زمانے میں کسی بھی مسلم ایمپائر کو حاصل نہ تھے۔ جدید حالات نے مسلمانوں کے لیے دعوت کے نقطہ نظر سے بہت سے نئے امکانات کھول دیے تھے۔ مثلاً کمیونی کیشن، مذہبی آزادی، عالمی انٹریکشن، وغیرہ۔ لیکن مسلمان ان جدید مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ دوبارہ ایسا ہوا کہ وہ مختلف قسم کے انحرافات (distractions) کا شکار ہوگئے، اور دعوت کے راستے سے بھٹک کر دوسرے غیر دعوتی راستوں میں سرگرم ہو گئے۔ مثلاً مدعو سے نفرت اور متشددانہ ٹکراؤ، مدعو پر اپنی برتری قائم کرنے کے لیے مناظرہ، اپنا علاحدہ قومی تشخص برقرار رکھنے کے لیے کمیونٹی ورک، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page