Al-Risala · August 2019 · page 29

دعوہ ایکسپلوزن

الرسالہ، اگست ۲۰۱۹، صفحہ ۲۹

اس صورت حال میں الرساله مشن سنے وابستہ لوگوں کے لیے دعوت کا ایک سنہری موقع موجود ہے، اور وہ ہے ماہنامہ الرسالہ یا اس سے متعلق اردو کتابوں کو پڑھ کر لوگوں کو سنانا۔ اس طرح وہ رسول اور اصحاب رسول کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کا کریڈٹ پاسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ ٹکنالوجی نے موجودہ زمانے میں اس کام کو بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ وہ یہ کہ وائس ریکارڈنگ کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے، الرسالہ اور اس سے متعلق کتابوں کے مضامین کا ریکارڈ تیار کیا جائے، اور ان کو وسیع طور پر لوگوں کے درمیان پھیلایا جائے۔ اس طرح لوگوں کو یہ موقع ہوگا کہ وہ سن کر الرسالہ مشن سے واقفیت حاصل کریں۔ کار میں سفر کرتے ہوئے وہ آڈیو ریکارڈنگ کو سنیں۔ الرسالہ مشن سے جڑے ہوئے بہت سے لوگ عملاً اس طریقہ کو استعمال کر رہے ہیں، وہ الرسالہ اور اس سے متعلق کتابوں کا آڈیو تیار کر کے لوگوں کو پہنچارہے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر وقار عالم (امریکہ)، مز شبانہ انصاری اور مسٹر سید خالد (پاکستان)، مولانا عبد الباسط عمری (قطر)، وغیرہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر مشن میں ایک اس کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں مشن استحکام کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جس کو مشن کی توسیع عام کا زمانہ کہہ سکتے ہیں۔ الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ماڈرن ٹکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے الرسالہ کی دعوت کو دعوہ ایکسپلوزن (Dawah Explosion) کے دور میں پہنچا دیں۔

1979 میں ایران کا انقلاب اسی طرح پیش آیا۔ آیت اللہ خمینی اس زمانے میں یورپ میں تھے۔ وہاں سے وہ اپنی تقریروں کے کیسٹ ایران بھیجتے تھے۔ یہ کیسٹ پورے ایران میں سے جانے لگیں۔ ایران کے اس انقلاب کو کیسٹ ریولیوشن کہا جاتا ہے :

A powerful and efficient network of opposition began to develop inside Iran, which smuggled cassette speeches by Khomeini, and used other means. کیسٹ ریولیوشن‘ کا یہ طریقہ بلاشبہ دعوت کے غیر سیاسی پر امن کام کے لیے کامیابی کے ساتھ دہرایا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2019 All issues

Printed page