Al-Risala · January 2019 · page 46

ایک سوال

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۶

آپ کی شخصیت پر آج تک اثر ہو؟

جواب : میں تو سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ جو واقعہ مجھے یا د رہتا ہے، وہ وہی سبق ہے جو میرے استاذ امین احسن اصلاحی سے مجھے ملا۔ ایک روز قرآن کی کلاس میں یہ آیت سامنے آئی: اَفَلَا يَنْظُرُوْنَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (88:17) ۔ یعنی کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا۔ استاذ محترم نے اس موقع پر طلبہ سے پوچھا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوتے ہیں۔ یعنی بیل کی مانند پھٹے ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند جڑے ہوئے۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریبا 20 طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل پچو سے کبھی ایک جواب دیتا، اور کبھی دوسرا جواب۔

اس موقع پر استاذ محترم نے ہم لوگوں کو سمجھایا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی کا مقولہ سنایا: ادری نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) ۔ اس کی تشریح انھوں نے کی کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمھارے پاس آدھا علم ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لاعلمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لیے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری (میں نہیں جانتا) کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے، اور پھر تم اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے ۔ مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لیے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملہ میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تا کہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (Spirit of Inquiry) ۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذ بہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے دیکھا تھا۔ مگر اس معاملہ میں وہ اپنے "لا ادری" کو نہیں جانتے تھے، اس لیے وہ حقیقت سے بے خبر رہے۔ نیوٹن پہلا شخص ہے، جس نے اس معاملہ میں اپنے "لا ادری" کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page