Al-Risala · January 2019 · page 47

ایک سوال

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۷

جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ادری‘‘ کے درجہ تک پہنچ گیا۔

اس کے برعکس، مسلم علماء دورِ جدید کو نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے فتویٰ دے کر یہ ظاہر کیا کہ ادری ان العصر الجدید حرام (میں جانتا ہوں کہ دورِ جدید حرام ہے)۔ جب کہ انھیں کہنا یہ چاہیے تھاکہ لاادری ما ھوالعصر الجدید (میں نہیں جانتا کہ دورِ جدید کیا ہے)۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہوتے کہ دورِ جدید کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ جب انھوں نے دورِ جدید کو جانے بنا ایک قدم اٹھایا تو اس کے نتیجے میں انھوں نے اس ادری (میں جانتا ہوں) کلچر کی بنیاد پر ہر چیز کو حرام قرار دے دیا، اور یہی وہ چیز ہے جو سیکولر تعلیم یافتہ مسلمانوں کے اسلام سے دور ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ جب کہ میں ہر چیز کو سب سے پہلے لا ادری (میں نہیں جانتا ہوں) کے خانے میں ڈالتا ہوں۔ اس کے بعد موضوعی اعتبار سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔

سوال : وہ کیا پروگرام ہیں، جس کے بارے میں آپ اللہ سے یہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ اس کو پورا کرے؟

جواب: میری صرف ایک تمنا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ ہر گھر میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا، روایت کے الفاظ یہ ہیں : لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كِلِمَةَ الإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی بڑا یا چھوٹا گھر باقی نہیں رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کا کلمہ داخل کرے گا۔ میری خواہش ہے کہ اس حدیث میں بیان کردہ پر اس کا میں حصہ بن جاؤں۔ یہاں تک کہ یہ ریلیٹی بن جائے، اور قرآن کی آیت، لیکون للعالمین نذیرا (25:1)، کے مطابق سارے عالم تک قرآن کا میسج آف انداز پہنچ جائے۔ My greatest desire is to become a part of this historical process, the process of the spreading of the word of God, until it becomes a reality. سوال : آپ کی ایک اہم کتاب الاسلام متھدی (مذہب اور جدید چیلنج) ہے۔ کیا آپ کا یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2019 All issues

Printed page