روحانیت اور مذہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۲
کو بتاتا ہوں تو وہ فوراً اس کو مان لیتی ہیں۔ ہمارے علماء کو چاہیے کہ وہ جدید علوم سیکھیں، اور وقت کے اسلوب میں اسلام کی تعلیمات پیش کریں۔ اس کے بغیر مسلم نوجوانوں میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ خدائی ہدایت کی ضرورت ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو خدا کی ہدایت کی کیا ضرورت۔ ہمارا ضمیر ہم کو بتا تار ہتا ہے۔ اگر ہم اپنے ضمیر کی آواز پر چلیں تو وہی نجات کے لیے کافی ہے۔ میں نے کہا کہ ضمیر کوئی قابل اعتماد ذریعہ نہیں۔ اس لیے کہ دنیا کی زندگی میں بار بار آدمی کے اوپر ذاتی انٹرسٹ غالب آ جاتا ہے۔ مختلف مادی مصلحتوں کی بنا پر آدمی اپنے ضمیر کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ آدمی کی یہ روش اس کے ضمیر کو دھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ اس کی حساسیت یا ختم ہو جاتی ہے یا کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ضمیر کے علاوہ کوئی اٹل رہنمائی موجود ہو۔ یہ رہنمائی خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ (بنگلور کا سفر)
روحانیت اور مذہب
ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روحانیت دراصل مذہب کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اب دنیا میں مذہب کا دور ختم ہو رہا ہے۔ اب ساری دنیا میں روحانیت کا دور آ رہا ہے۔ میں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ آپ کی یہ بات رواجی مذہب کے لیے درست ہے۔ عام رواج میں جس چیز کو مذہب کہا جاتا ہے وہ دراصل مذہب کا ظاہری فارم ہے۔ جہاں تک مذہب کی اصل اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ وہی ہے جس کوروحانیت کہا جاتا ہے۔
روحانیت مذہب کا اعلیٰ درجہ نہیں۔ روحانیت مذہب کی اصل اسپرٹ ہے۔ مذہب آدمی کو مادی سطح سے اٹھا کر اعلیٰ فکری سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ حیوانات جسمانی سطح پر جیتے ہیں۔ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ روح کی سطح پر جینے لگے۔ (بنگلور کا سفر) کامیابی کا راز ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues