تمام مذاہب سچے ہیں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۹، صفحہ ۱۳
اخلاقی قدروں اور انسانی اصولوں کے مطابق زندگی گزاریں تو ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انسان کی زندگی کے دومر حلے ہیں۔ ایک ہے موت سے پہلے کی عارضی زندگی اور دوسرا ہے موت کے بعد کی ابدی زندگی۔ آپ جو طریقے بتا رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کو عارضی زندگی میں بظاہر کامیاب کردے۔ مگر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس قسم کی کامیابی کسی کے لیے مددگار بننے والی نہیں۔ موت کے بعد کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ اس کے لیے خالق کا کریشن پلان کیا ہے۔ (بنگلور کا سفر)
تمام مذاہب سچے ہیں
کچھ ہندو حضرات سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ تمام مذہب سچے ہیں۔ آدمی جس مذہب کی بھی پیروی کرے وہ نجات پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راستے جدا ہو سکتے ہیں مگر منزل ایک ہے۔
میں نے کہا کہ ایک تصرف کے ساتھ آپ کی بات درست ہے۔ وہ یہ کہ تمام مذاہب سچے تھے، مگر بعد کو ہر مذہب کے اندر تبدیلیاں ہو گئیں۔ اب صرف قرآن غیر محرف حالت میں ہے۔ بقیہ تمام مذہبی کتابیں تحریف کی بنا پر غیر مستند ہو چکی ہیں۔ اس لیے اصولی طور پر ہر مذہب کی ابتدائی صداقت کو مانتے ہوئے میں کہوں گا کہ اب قابل تقلید کتاب صرف قرآن ہے۔ اب نجات کا دارو مدار صرف قرآن کے اتباع پر ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ قرآن افضل کتاب ہے بلکہ اس لیے کہ قرآن دوسری مذہبی کتابوں کے مقابلے میں محفوظ اور مستند حالت میں موجود ہے۔ (بنگلور کا سفر) قومی ذہن، دعوتی ذہن موجودہ زمانہ میں دعوتی نقطہ نظر سے سب سے بڑا حادثہ یہ پیش آیا ہے کہ قومی شکایتوں کو لے کر مسلمان تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ ہندو، یہودی، عیسائی، امریکن، یوروپین، سب کے سب مسلمانوں کو اپنے دشمن نظر آتے ہیں۔ اُن کو دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب لوگ مسلمانوں کے خلاف سازش میں مشغول ہیں۔ اس منفی سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانیت عامہ ‘‘مسلمانوں کا کَنْسَرن نہ رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2019 All issues